ملفوظات (جلد 5) — Page 168
توبہ ہی طاعون کا علاج ہے طاعون کے علاج کی نسبت فرمایا کہ بجز اس کے کہ توبہ ہو اور سب تجاویز جواس کے علاج کے لیے سوچی جاویں۔خدا کے ساتھ مقابلہ ہے کوئی تجویز ہو، ناکافی ہے جب تک خدا سے صلح نہ ہو۔۲ ۱۱؍جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) حقیقت اور معرفت فرمایا کہ درحقیقت خدا تعالیٰ نے تنگی کسی بات میں نہیں رکھی جو ئندہ یابندہ ہوتا ہے۔۳ فرمایا کہ دوشخص برابر نہیں ہوسکتے ایک وہ جو حقیقت پر پہنچتا ہے اور ایک وہ جو معرفت تک۴ جیسے رویت اور سماع برابر نہیں ہوسکتے ویسے ہی یہ بھی برابر نہیں ہے جو عارف ہے اور ۱ الحکم میں ہے۔’’قانون قدرت ہمیں اس قانون کے رواج کا نشان دیتا ہے۔قرآن کریم اوردیگر کسی شریعت آسمانی نے بھی یہی جائز رکھا اور عقل انسانی بھی اسی قتل حفظ ماتقدم کے لیے سبق دیتی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵) ۲ الحکم میں ہے۔’’ دراصل اہل باطن کے لیے وہ بھی ایک شریعت ہوتی ہے جس کی بجا آوری ان پر فرض ہوتی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵) ۳ الحکم سے۔’’شریعت ظاہری وہ ہے کہ جس میں اُمور دُنیا کا پورا پورا انصرام اہتمام کیا گیا ہے تاکہ اس کے انتظام میں بلحاظ ظاہر کے کوئی بات خلاف طریق ظاہر نہ ہو۔شریعت باطنی وہ ہے کہ بعض امور ظاہری جو بادی النظر میں کامل طور پر ظہور پذیر نہیں ہوسکتے الہام و کشوف سے ظاہر اور رواج دیئے جاتے ہیں۔شریعت ظاہری کی طرح اہلِ کشف پر احکام نازل ہوتے ہیں۔جوبعض امور کے حقائق پر مشتمل ہوتے ہیں اور جب تک ملہم اُن کی بجا آوری میںبدل و جاں کوشش نہ کرے ممکن نہیں کہ اندرونی اصلاح کماحقہ حقیقتاً ہوسکے اور یہ امور جو اہل ِ کشف پر نازل ہوتے ہیں شریعت کے دراصل مخالف نہیں ہوتے بلکہ بعض حقائق کی تکمیل ہوتی ہے مثلاً کہا جاتا ہے وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ:۱۹۶) جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میںنہ ڈالو۔مگر ایک شخص کو حکم ہوتا ہے کہ تو اپنے بچے کو دریا میں ڈال دے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو حکم ہوا۔یا دریا چیر کر نکل جا جیسے خود موسیٰ علیہ السلام کو یا مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر اور آپ کرنے لگ گئے۔یہ امور شریعت سے وراء الوریٰ ہوتے ہیں جن کو اہلِ حق ہی سمجھتے ہیں اور وہی اُن کو بجا لاتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ )