ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 167

جاویں گے غلط ہے آنحضرت کے زمانہ میں ابو بکرؓ وغیرہ کے املاک ہی کیا تھے؟ ایک ایک دو دو سویا کچھ زیادہ روپیہ کسی کے پاس ہوگا مگر اس۲ کا اجر ان کو یہ ملا کہ خدا نے بادشاہ کر دیا اور قیصرو کسریٰ کے وارث ہوگئے۔مگر خدا کی غیرت یہ نہیں چاہتی کہ کچھ حصہ خدا کا ہو اور کچھ شیطان کا اور توحید کی حقیقت بھی یہی ہے کہ غیر ازخدا کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔توحید کا اختیار کرنا تو ایک مَرنا ہے لیکن اصل میں یہ مَرنا ہی زندہ ہونا ہے۔مومن جب توبہ کرتا ہے اور نفس کو پاک صاف کرتا ہے تو خوف ہوتا ہے کہ میں تو جہنم میں جا رہا ہوں کیونکہ تکالیف کا سامنا ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ اسے ہر طرح سے محفوظ رکھتا ہے یہ موت مختلف طریق سے مومنوں پر وارد ہوتی ہے کسی کو لڑائی سے کسی کو کسی طرح سے۳ جیسے ابراہیم علیہ السلام نے جنگ نہ کی تو آپ کو لڑکے کی قربانی کرنی پڑی۔یہ بات قابل افسوس ہے کہ خدا پر امید رکھے اور ایک اور بھی حصہ دار ہو۔قرآن میں بھی لکھا ہے کہ حصہ سے خدا راضی نہیں ہوتا بلکہ فرماتا ہے کہ حصہ داری سے جو حصہ انہوں نے خدا کا کیا ہوتا ہے وہ بھی خدا انہی کا کر دیتا ہے کیونکہ غیرت احدیّت حصہ داری کو پسند نہیں کرتی۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء باوجود غریب، یتیم اور بے کس اور بلا اسباب ہونے کے اور پھر بموجب قانون دنیا کے بے ہنر ہونے کے آگے سے آگے قدم بڑھا تے ہیں اور یہ سب سے پہلا ثبوت خدا کی خدائی کا ہے۱ اسی لیے ان کے مخالف حیران ہو جاتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ جو شخص بڑا جاہل اور ان کے تقدس سے بے خبر ہوتا ہے وہ بھی کم ازکم ان کی دانائی کا قائل ہوتا ہے جیسے عیسائی لوگ آنحضرت کی پیشگوئیاں پوری ہوتی دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ بہت دانا آدمی تھا۔۱ البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۹ ؍جون ۱۹۰۳ءصفحہ۱۶۹، ۱۷۰ ۲ الحکم میں ہے۔’’حالانکہ موسیٰ علیہ السلام بلحاظ شریعت منزلہ حق پر تھے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ ؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵)