ملفوظات (جلد 5) — Page 159
رئیسِ کفا ر تھے ان سب کاٹھکانہ جہنم ہوا اور ان کے صغیر و کبیر سب کے سب ہلاک ہو گئے۔اگر ایک شخص کا ایک پیسہ چوری ہوگیا ہے اور دوسرے کا تمام گھر بار لوٹا گیا ہے تو کیا وہ آدمی جس کا تمام گھر بار لو ٹا گیا پیسہ والے کو کہہ سکتا ہے کہ تم اور میں برابر ہیں؟ بھلا سوچو تو سہی کہ اگر ۷۰برس تک ہمارا کوئی آدمی ہلاک نہ ہو تو ایسا کوئی آدمی ہے جو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے سے رکا رہے؟ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ اَمر منظور نہیں ہے اور نہ کبھی ایسا ہوا۔ایمان کی حالت ہی کا پوشیدہ ہونا ضروری ہے جب تک ہماری جماعت تقویٰ اختیار نہ کرے نجات نہیں پا سکتی خدا تعالیٰ اپنی حفاظت میں نہ لے گا یہی سبب ہے کہ بعض ان صحا بہ میں سے جن جن سے بڑے بڑے کام لینے تھے وہ سب سخت سے سخت خطروں میں بھی بچائے گئے دوسروں کو خدا نے جلد اٹھا کر بہشت میں داخل کیا۔جاہل کو حقیقت معلوم نہیں ہوتی جو بات منہ میں آئی کہہ دی ہر ایک نبی کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے جہاں کفا ر مَرتے تھے وہاں اصحا ب میں سے بھی کوئی نہ کوئی مَر جاتا تھا اگر خدا تعالیٰ کھلاکھلا نشان مثلاً سوٹے کا سانپ کر دے۱ تو نیک وبد میں فرق کیا رہے گا؟ تمام یورپ وامر یکہ داخل اسلام ہو جاویں گے مگر خدا تعالیٰ نے ہمیشہ امتیاز رکھا ہے صحابہ کرامؓ کو خدا تعالیٰ نے توحید پھیلانے کے لیے پیدا کیا اور انہوں نے توحیدپھیلائی اب بھی خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ توحید پھیلے جو آوے گا وہ خدا کی رحمت سے محروم نہ رہے گا مگر چاہیے کہ اپنے وجود کو وہ مفید بنا وے۲ اللہ تعالیٰ خود ان کی حفاظت کرے گا زبان سے خدا خدا کہنا مگر عمل سے خدا سے بیگانگی ایک طرح کا دہریہ پن ہی ہے۔۳ ۱ البدر سے۔’’ مگر جو دُنیا میں اس قدر غرق ہے کہ گویا اس نے بیعت ہی نہیں کی اور اُسے ملنے کی فرصت ہی نہیں کیا وہ ان لوگوں کے برابر ہوسکتا ہے جو باربار آکر ملتے رہتے ہیں۔‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۲؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۶۱) ۲ البدر سے۔’’بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ مسلمان ہوکر پادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض ہندوئوں سے رکھتے ہیں۔خدا فرماتا ہے کہ پھر وہ انہی میں سے ہیں۔یہ باتیںہیں ان کو یاد رکھو اور خدا سے عمل کی توفیق طلب کرو۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۲؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۶۱) ۳ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷ ، ۱۸ ۴ البدر جلد ۲نمبر ۲۱ مورخہ ۱۲ جو ن ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶۱