ملفوظات (جلد 5) — Page 154
دوسرے وہ جو میانہ رَو۔کسی ٹھوکر سے بچتے اور ڈرتے رہتے ہیں۔تیسرے وہ جو ہر ایک ٹھوکر سے ایسے بچ کر نکل جاتے ہیں جیسے کہ سانپ اپنی کینچلی سے۔وہ ہر ایک خیر کے لئے دوڑتے اور ہر ایک شر سے بھاگتے ہیں۔جن لوگوں نے اپنے تزکیہ کا خیال نہیں کیا وہ بالضرور بے پردگی سے ٹھوکر کھا سکتے ہیں۔عورتوں کو ان سے پردہ کرنا چاہیے۔مثل مشہور ہے کہ ع خر بستہ بہ گرچہ دزد آشنا است قسم اوّل ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ۔دوم مُقْتَصِدٌ۔سوم سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ ان مختلف مدارج و مراتب کے اشخاص کیسے یکساں سلوک کے لائق ہیں؟کیا عیسائی بتا سکتے ہیں کہ ان میں سب پاکباز ہیں۔شرابی نہیں، زانی نہیں۔اگر پردہ ہوتا تو ان جرائم کی نوبت کیوں آتی ہزار ہا ولد الحرام کیوں پیدا ہوتے۔تجربہ بتا رہا ہے اوّل قسم کے لوگ بکثرت ہیں۔۱ اس لیے ان سے حتی الوسع پردہ کرنے کے لیے شریعت نے مجبور کیا کہ پردہ کی رسم ہو۔شرابی آدمی کو طعن و تشنیع کا فکر ہے نہ ڈنڈے کا خوف۔اس لیے عیسائیوں کا اسلام پذیر ہونا محالات سے ہے۔۲ ۲۹ ؍مئی ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) آج حضرت اقدس نے بہت سے احباب کی بیعت کے بعد تقریر فرمائی۔فرمایاکہ نومبایعین کو نصائح اب تم لوگ جو بیعت میں داخل ہوئے ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ تم نے عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عہد