ملفوظات (جلد 5) — Page 134
شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مقابلہ میں بنادی ہوئی ہے۔مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں ان وظائف اور اَورادمیں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اَوراد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔میں نے مولوی صاحب سے سُنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیے اور سمجھ سمجھ کر پڑ ھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لیے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نماز یاد الٰہی کا ذریعہ ہے۔اس لیے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ (طٰہٰ:۱۵) قبرستان میں جانا سوال۔قبرستان میں جانا جائز ہے یا ناجائز؟ جواب۔نذر ونیاز کے لیے قبروں پر جانا اور وہاں جا کر منتیں مانگنا درست نہیں ہے ہاں وہاں جاکر عبرت سیکھے اور اپنی موت کو یاد کرے تو جائز ہے۔قبروں کے پختہ بنانے کی ممانعت ہے البتہ اگر میّت کو محفوظ رکھنے کی نسبت سے ہو تو حر ج نہیں ہے یعنی ایسی جگہ جہاں سیلاب وغیرہ کا اندیشہ ہو اور اس میں بھی تکلفات جائز نہیں ہیں۔۱ ۱۰؍مئی ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر) مامور کا زمانہ ایک قیامت ہوتا ہے فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ (الشورٰی:۸) خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ جیسے ایک طرف بغض وحسد کرنے والے ہمارے دشمن موجود ہیں۔ویسے ہی ان کے بالمقابل وہ لوگ بھی ہیں جو کہ اسی تحریک ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخہ ا۳مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹