ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 133

کی فکر کرنی لازم ہے۔یاد رکھو انسان کے اندر ایک بڑا چشمہ لذّت کا ہے جب کوئی گناہ اس سے سر زد ہوتا ہے تو وہ چشمہ لذّت مکدّر ہو جاتا ہے اور پھر لذّت نہیں رہتی۔مثلاًجب ناحق گالی دے دیتا ہے یا ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر بدمزاج ہو کر بدزبانی کرتا ہے تو پھر ذوق نماز جاتا رہتا ہے۔اخلاقی قویٰ کو لذّت میں بہت بڑا دخل ہے۔جب انسانی قویٰ میں فرق آئے گا تو اس کے ساتھ ہی لذّت میں بھی فرق آجاوے گا۔پس جب کبھی ایسی حالت ہو کہ اُنس اور ذوق جو نماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا ہے تو چاہیے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گمشدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے اور اس کا علاج ہے توبہ، استغفار، تضرّع، بے ذوقی سے ترک نمازنہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے۔جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ کو چھوڑنہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذّت اور سرور آجاتا ہے۔پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے اور تھکنا مناسب نہیں آخر اسی بےذوقی میں ایک ذوق پیدا ہو جاوے گا۔دیکھو پانی کے لئے کس قدر زمین کو کھودنا پڑتا ہے جو لوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں۔اس لیے اس ذوق کو حاصل کرنے کے لیے استغفار، کثرت نمازودعا،مستعدی اور صبر کی ضرورت ہے۔بہترین وظیفہ سوال۔بہترین وظیفہ کیا ہے؟ جواب۔نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے استغفار ہے اور درود شریف، تمام وظائف اور اَوراد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اس لیے فرمایا ہے اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ(الرعد:۲۹) اطمینان، سکینتِ قلب کے لیے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔لوگوں نے قِسم قِسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی