ملفوظات (جلد 5) — Page 132
بلاتاریخ دوزخ دائمی نہیں ہمارا ایمان یہی ہے کہ دوزخ میں ایک عرصہ تک آدمی رہے گا پھر نکل آئے گا۔گویا جن کی اصلاح نبوت سے نہیں ہوسکی ان کی اصلاح دوزخ کرے گا حدیث میں آیا ہے یَاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَّیْسَ فِیْـھَا اَحَدٌ یعنی دوزخ پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں کوئی متنفس نہیں ہوگا اور نسیم صبا اس کے دروازوں کو کھٹکھٹائے گی۔۱ بلاتاریخ۲ استفسار اور ان کے جواب سوال۔کبھی نماز میں لذّت آتی ہے اور کبھی وہ لذّت جاتی رہتی ہے اس کا کیا علاج ہے؟ جواب۔ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ اس لذّت کے کھوئے جانے کو محسوس کرنے اور پھر اس کو حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہیے جیسے چور آوے اور وہ مال اُڑا کر لے جاوے تو اس کا افسوس ہوتا ہے اور پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ آئندہ کو اس خطرہ سے محفوظ رہے۔اس لیے معمول سے زیادہ ہو شیا ری اور مستعدی سے کام لیتا ہے۔اسی طرح پر جو خبیث نماز کے ذوق اور اُنس کو لے گیا ہے تو اس سے کس قدر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے؟ اور کیوں نہ اس پر افسوس کیا جاوے؟ انسان جب یہ حالت دیکھے کہ اس کا اُنس و ذوق جاتا رہا ہے تو وہ بے فکر اور بے غم نہ ہو نماز میں بے ذوقی کا پیدا ہونا ایک سارق کی چوری اور روحانی بیماری ہے جیسے ایک مریض کے مُنہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے تو وہ فی الفور علاج کی فکر کرتا ہے۔اس طرح پر جس کا روحانی مذاق بگڑ جاوے اس کو بہت جلد اصلاح ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۳ ۲ یہ ملفوظات بھی ’’الحکم‘ ‘ میں بلاتاریخ شذرات کی صورت میں درج ہیں۔’’استفسار اور ان کے جواب ‘‘ کے عنوان سے الحکم میں جو ملفوظات بلاتاریخ درج ہوتے ہیں۔بعض دفعہ تو البدر کی ڈائری سے پتا لگ جاتا ہے کہ کس تاریخ کے ہیں لیکن بعض دفعہ البدر کی ڈائری سے بھی ان کی تاریخ کا پتا نہیں چلتا تو بلا تاریخ درج کر دیئے جاتے ہیں۔(مرتّب )