ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 128

اس کے اوپر ایک لالٹین بھی نصب کی جاوے گی۔جس کی روشنی دُور دُور تک نظر آوے گی۔سُنا گیا ہے کہ روشنی سے بھی طاعونی مواد کا دفعیہ ہوتا ہے اور ایک گھنٹہ بھی اس پر لگایا جاوے گا۔اس کی بلندی کی نسبت ہم کہہ نہیں سکتے ابھی سر مایہ نہیں ہے۔سر مایہ پر دیکھا جاوے گا کہ کس قدر بلند ہوگا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ لوگ اس پر چڑھ کر چارپائیاں بچھا ویں گے کیونکہ ایک تو وہ مخروطی شکل کا ہوگا اور گھنٹہ کی وجہ سے اسے بند رکھا جاوے گا کہ لوگ چڑھ کر اسے خراب نہ کر دیویں۔مجھے حیرت ہے کہ یہاں کے ہندوؤں کے ساتھ ہم نے آج تک برادرانہ برتاؤ رکھا ہے اور یہ لوگ ہمارے مینار کی تعمیر پر اس قدر جوش و خروش ظاہر کر رہے ہیں۔اس مسجد کو ہمارے مرزا صاحب (والد صاحب)نے سات ۷۰۰سو روپیہ کو خریدا تھا اور اس مینار کی تعمیر میں صرف مسجدہی کے لیے مفید بات نہیں ہے بلکہ عوام کو بھی فائدہ ہے۔یہ خیال کہ اس سے بے پر دگی ہو گی یہ بھی غلط ہے۔اب ہمارے سامنے ڈپٹی شنکرداس صاحب کاگھر ہے اوراس قدر اونچاہے کہ آدمی اُوپر چڑھے تو ہمارے گھر میں اس کی نظر برابر پڑتی ہے تو کیااب ہم کہیں کہ اسے گرادیا جاوے؟ بلکہ ہم کو چاہیے کہ اپنا پر دہ خود کر لیویں۔ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ مذہبی امور میں ہم سے دلبستگی ظاہر کرتے اور اس اَمر میں ہماری امداد کرتے اگر یہ لوگ اپنا معبد بلند کرنا چاہیں تو کیا ہم اسے روک سکتے ہیں؟ یہ خیال کہ مسجد یہاں ہو اور مینار کہیں باہر ہو ایک قسم کی ہنسی ہے اور اس وقت قبولیت کے قابل ہے کہ اوّل مسجد باہر نکال دی جاوے پھر مینار بھی باہر ہو جاوے گا اور یہ قبر ہمارے مرزا صاحب کی ہے انہوں نے نزول۱ سے زمین خرید کر اس مسجد کو تعمیر کرایا تھا اور اپنی موت سے ۲۲ دن پہلے اپنی اس قبر کا نشان بتلایا کہ اس جگہ ہو۔مجھے ان لوگوں پر بار بار افسوس آ تا ہے کہ ہمارے دل میں تو ان کی ہمدردی ہے۔بیماریوں میں ہم ان کا علاج کرتے ہیں۔ہر ایک ان کی مصیبت میں شریک ہوتے ہیں۔انہی سے پوچھا جاوے کہ کبھی ان کے مذہبی معاملات میں مَیں نے ان سے نقیض کی ہے؟ ۱ نقل مطابق اصل