ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 127

پھر ملوک پر حملہ کرتی ہے اور اس کے اصل اسباب کا معمہ تو خدا خود ہی کھولے گا میں نے اس کی خبرآج سے ۲۲ سال پیشتر دی ہے پھر سات سال کے بعد دی پھر اس وقت دی جب کہ ایک دوضلعوں میں یہ تھی۔قرآن میں، انجیل میں، دانیال نبی کی کتاب میں اس کا ذکر ہے غرضیکہ قبل از وقت ہم اس کی نسبت کھل کر بات نہیں کرتے کیونکہ اس پرہنسی کی جاوے گی جب خدا تعالیٰ اس کا پورا دورہ خود ختم کرے گا تو اس وقت آپ ہی لوگوں کو پتا لگ جائے گا۔اطباء نے لکھا ہے کہ جب موسم جاڑے یا گرمی کی طرف حرکت کرتا ہے تواس وقت یہ زیادہ ہوتی ہے مگر ابھی تو موسم اتنی شدت گر می کا نہیں ہے لیکن اگر مئی کے گذرنے پر یہی حال رہا تو شاید یہ قاعدہ بھی ٹوٹ جاوے مگر اصل بات کا علم تو خدا تعالیٰ ہی کوہے۔اکثر جگہ چو ہے کثرت سے مَرتے ہیں تو وہاں طاعون کا اندیشہ ہوتا ہے مگر خدا کے فضل سے ہمارے گھر میں دو بلیاں ہیں اور وہ کوئی چو ہا نہیں چھوڑ تیں شاید یہ بھی خدا کی طرف سے ایک علاج ہو۔طاعون کا حقیقی علاج سوال ہوا کہ پھر اس کا علاج کیا ہے؟ فرمایا۔ہماراتو یہ مذہب ہے کہ بجز تقویٰ طہارت اور رجوع الی اللہ کے اور کوئی چارہ نہیں گو لوگ اسے دیوانہ پن سمجھتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ یہ دنیا خود بخود نہیں ہے ایک خالق اور مدبّر کے ماتحت یہ چل رہی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ زمین پر پاپ اور گناہ بہت ہو گیا ہے تو وہ تنبیہ نازل کرتا ہے اور جب رجوع الی اللہ ہو تو پھر اسے اٹھا لیتا ہے لیکن دیکھا جاتا ہے کہ لوگ بہت بیباک ہیں اور ان کو ابھی تک کچھ پروا نہیں ہے۔مینارۃ المسیح کی غرض سوال ہوا کہ مینار کیوں بنوایا جاتا ہے؟ فرمایا کہ اس مینار کی تعمیر میں ایک یہ بھی برکت ہے کہ اس پر چڑھ کر خدا کا نام لیا جاوے گا اور جہاں خدا کا نام لیا جاتا ہے وہاں برکت ہوتی ہے۔چنانچہ آج کل اسی لیے سکھوں نے بھی اذانیں دلوائی ہیں اور مسلمانوں کو اپنے گھروں میں بلا کر قر آن پڑھوایا ہے۔پھر