ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 126

صاحب نے چند امور استفسار کئے اس موقع پر جو کچھ حضر ت اقدس نے ارشاد فرمایا اسے ہم یکجائی طور پر درج کر دیتے ہیں۔(ایڈیٹر) طاعون طاعون کے تجربہ کے سوال پر فرمایا کہ اس کے تجربہ کا موقع ابھی بہت ہے حکماء نے لکھا ہے کہ اس کا دورہ ستّر ستّر برس تک ہوا کرتا ہے بڑے بڑے حکماء نے پچاس ساٹھ برس تک اس کے دور ہ کا مشاہدہ لکھا ہے لیکن خدا جانے کہ بعد میں اس کے کیا تجارب ہوں۔یہ کہنا کہ تجربہ ہوا ہے کہ کھلی ہوا میں اس کے کیڑے زیادہ ہوتے ہیں ٹھیک نظر نہیں آتا کیونکہ علاقہ بمبئی میں اس نے سب سے پہلے زیادہ حصہ شہر بمبئی کا ہی پسند کیا تھا شاید یہ بات بعد میں بدل جائے۔ہم اس رائے کو اس وقت قبول کرتے ہیں جب طاعون کی رفتار بھی اسے قبو ل کرے جیسے حکام کے دورہ ہوتے ہیں اسی طرح اس کے بھی دورہ ہوتے ہیں کسی جگہ پر عود کرتی ہے اور کسی جگہ نہیں لیکن اس پر بھی زور نہیں دیا جاسکتا شاید ایک ہی جگہ بار بار آجاوے پہلا تجربہ یہ ہے کہ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ اپنی عمر پوری کرکے خود بخود ہی چھوڑ جاتی ہے۔طاعون کا باعث سوال ہوا کہ طاعون کا اصل باعث کیا ہے؟ فرمایا کہ مَیں اس مجلس میں اس کا ذکر اس لیے پسند نہیں کرتا کہ مذہبی رنگ کے مسائل کو لوگ کم سمجھتے ہیں حقیقت میں جو لوگ خدا پر ایمان لائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ اس کی نافرمانی کا نتیجہ ہے۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان اپنی عقل پر بہت بھروسہ کرتا ہے تو ہر شَے کا انکارکر دیتا ہے حتی کہ خدا سے بھی منکر ہو جاتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ آج کل کے جنٹلمین دینی بات کرنے والے کو بیوقوف کہہ دیتے ہیں لیکن یقین ہے کہ اب زمانہ خود بخود مؤدّب ہو جاوے گا۔نرے ارضی اسباب ہی اس طاعون کے موجد نہیں ہیں آخر اس کے کیڑے کسی پیدا کرنے والے کی وجہ سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور وہ زمانہ قریب ہے کہ لوگوں کو اس کی ہستی کا پتا لگ جاوے گا۔ابھی تک لوگوں کو عبرت کامل نہیں ہوئی ہے۔طاعون کی گذشتہ چال سے پتا لگتا ہے کہ اوّل عوام پر پھر خواص پر پھر ملوک پر حملہ کرتی ہے اور اس کے اصل اسباب کا معمہ تو خدا خود ہی کھولے گا میں نے اس کی خبرآج سے ۲۲ سال پیشتر دی ہے پھر سات سال کے بعد دی پھر اس وقت دی جب کہ ایک دوضلعوں میں یہ تھی۔قرآن میں، انجیل میں، دانیال نبی کی کتاب میں اس کا ذکر ہے غرضیکہ قبل از وقت ہم اس کی نسبت کھل کر بات نہیں کرتے کیونکہ اس پرہنسی کی جاوے گی جب خدا تعالیٰ اس کا پورا دورہ خود ختم کرے گا تو اس وقت آپ ہی لوگوں کو پتا لگ جائے گا۔