ملفوظات (جلد 5) — Page 112
ہزاروں انوار سے محروم بھی رکھتا ہے ورنہ ہمارا معاملہ تو نہایت ہی صاف اور کھلاکھلا ہے کیسے ہی دلائل اور براہین سے ایک اَمر کو مدلّل کرکے کیوں نہ بیان کیا جاوے عادت ورسم کا پا بندضرور اس کے ماننے میں پس وپیش کرے گا اور جب تک وہ اس حجاب کو پھا ڑ کر باہر نہ نکلے اسے حق لینا نصیب ہی نہیں ہوتا۔آنحضرتؐکی صداقت کیسی اجلٰی اور اصفٰی تھی مگر ان کے دعوے کے وقت بھی عیسائی راہبوں اور یہودی مولویوں نے جو عادت اور رسم کے پا بند تھے ہزاروں عذر تراشے اور آپ کو صادق کہنے کی بجائے کاذب کا خطاب دیا گویا رسم اور عادت کی ظلمت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالاہواتھا کہ وہ نور کو ظلمت کہتے تھے ورنہ آپ کے معجزات، بیّنات اور فیوض اس قدر کامل اور اعلیٰ تھے کہ کسی کوان سے انکار ممکن نہ تھا۔۱ تسلی پانے کے تین طریق اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک قسم دلائل اور بینات ہمارے واسطے جمع کر دئیے ہیں انسان کے تسلی پانے کے تین ہی طریق ہوا کرتے ہیں۔(۱) اوّل نقلی دلائل۔سو وہ قرآن شریف کے نصوص سے ثابت ہیں کیونکہ جو شخص قرآن شریف کو کلام الٰہی مانتا ہے اسے تو اس بن چارہ نہیں بلکہ اس کاایمان ہی کلام ِالٰہی کے بغیر ناقص ہے۔۲ نقلی دلائل کا دوسرا حصہ احادیث ہیں سوان میں سے وہ احادیث قابل پذیرائی ہیں جو قرآن شریف کے معارض نہ ہوں کیونکہ جو حدیث قرآن شریف کے مخالف معارض ہو۔وہ ردّی ہے ۱ البدر میں ہے۔’’کیا باعث ہوسکتا ہے کہ ایک نبی کامل اور لاثانی آوے اور پھر نہ مانا جاوے؟ماں باپ سے جو ایک عادت بخل کی چلی آتی ہے وہ اَمرِ حق کو سمجھنے نہیں دیا کرتی۔اب اس وقت بھی طریق تسلی اختیار کرنے میں یہی مشکلات پڑےہیں۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۷مورخہ ۱۵؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳۰،۱۳۱) ۲ البدر میں ہے۔’’جس کو خدا پر یقین ہے اور وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا ہے وہ ایک آیت سن کر کب دلیری کرے گا کہ اس کی تکذیب کرے۔صریح نص سے انکار مشکل ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۷ مورخہ ۱۵؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳۱)