ملفوظات (جلد 5) — Page 95
۲۸؍اپر یل ۱۹۰۳ء (بوقتِ ظہر) مہندی اور وسمہ مہندی اور وسمہ کی نسبت ذکر ہوا۔حضور نے فرمایا کہ اکثر اکابراس طرف گئے ہیں کہ وسمہ نہ لگانا چاہیے یا مہندی لگا ئی جاوے یا وسمہ اور مہندی ملا کر۔۱ ۲۹؍اپریل ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) ناپائیدار زندگی ایک شخص کی نئی ایجاد پر ذکر آیاکہ اس کی ایجاد بہت مقبول ہوئی ہے اور اس کے ذریعے سے وہ لاکھ ہا روپیہ اب کماوےگا۔فرمایا کہ دنیا چندروزہ ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت آوے گی اور ان کی نظر یہاں تک ہی محدو درہتی ہے لیکن اگر زندگی نہ ہوئی تو کیا فائدہ؟ لوگوں کا دستور ہے کہ ہر ایک پہلو پر نظر نہیں ڈالتے۔۲ ایک الہام اِنَّا نَرِثُ الْاَرْضَ نَاْکُلُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا۔۳ ۳۰؍اپر یل ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر ) ایک الہام فرمایا کہ مجھے الہام ہوا مگر اس کا آخری حصہ یاد ہے دوسرے الفاظ یاد نہیں رہے جو الفاظ یاد ہیں وہ یہ ہیں فِیْہِ خَیْرٌ وَّ بَرَکَۃٌ اس کا ترجمہ بھی بتلا یا گیا ’’ اس میں تمام دنیا کی بھلائی ہے ‘‘ ۱،۲البدر جلد۲ نمبر۱۶مورخہ ۸؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲۱ ۳ البدر جلد۲ نمبر۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۷