ملفوظات (جلد 5) — Page 94
ہاں یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی منذر خواب آوے توصدقہ خیرات اور دعا سے وہ بَلا ٹل جاتی ہے۔تفاؤل کسی کے نام سے بطور تفاؤل کے فال پر سوال ہوا۔فرمایا کہ یہ اکثر جگہ صحیح نکلتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تفاؤل سے کام لیا ہے ایک دفعہ مَیں گورداسپور مقدمہ پر جارہاتھا اور ایک شخص کو سزا ملنی تھی میرے دل میں خیال تھا کہ اسے سزا ہو گی یا نہیں کہ اتنے میں ایک لڑکا ایک بکری کے گلے میں رسی ڈال رہا تھا اس نے رسی کا حلقہ بنا کر بکری کے گلے میں ڈالا اور زور سے پکارا کہ وہ پھس گئی وہ پھس گئی میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اسے سزا ضرور ہو گی چنا نچہ ایسا ہی ہوا۔اسی طرح ایک دفعہ سیر کو جارہے تھے اور دل میں پگٹ کا خیال تھا کہ بڑا عظیم الشان مقابلہ ہے دیکھئے کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک شخص غیر از جماعت نے راستہ میں کہا السلام علیکم۔میں نے اس سے نتیجہ یہ نکالا کہ ہماری فتح ہو گئی۔طاعون کے متعلق ایک تازہ الہام قُلْنَا يٰۤاَرْضُ ابْلَعِيْ مَآءَكِ وَ يٰسَمَآءُ اَقْلِعِيْ۔اس الہام کے متعلق جہاں تک میری رائے ہے وہ یہ ہے کہ یہ عام شہروں اور دیہات کے متعلق نہیں اور نہ اس سے دوام منع ثابت ہوتا ہے۔غالباًیہی ہے کہ بعض دیہات اور شہروں میں جن کی نسبت خدا کاارادہ ہے چند مہینوں تک طاعون بند رہے اور پھر جہاں خدا وندقدیر چاہے پھر پھوٹ پڑے اور یہ بکلی بند نہیں ہوگی جب تک وہ ارادہ بکمال وتمام پورا نہ ہو جاوے جوآسمان پر قرار پایا ہے اور ضرور ہے کہ زمین اپنے مواد نکالتی رہے جب تک کہ خدا کا ارادہ اپنے کمال کو نہ پہنچے۔مرزا غلام احمد ایک الہام مورخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۰۳ء کی شام کو فرمایا۔رَبِّ اِنِّیْ مَظْلُوْمٌ فَانْتَصِـرْ۱