ملفوظات (جلد 5) — Page 93
جو ہزارہا آدمی کھچے چلے آتے ہیں یہ سب خدا کی کشش ہے ان لوگوں کی علمیت اور حکمت دانا ئی ان کے کچھ کام نہ آئی۔مثنوی میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک شخص دولت مند تھا مگر بچا رے کی عقل کم تھی وہ کہیں جانے لگا تواس نے گدھے پر بورے میں ایک طرف جواہرڈالے اوروزن کو برابر کرنے کے واسطے ایک طرف اتنی ریت ڈال دی آگے چلتے چلتے اسے ایک شخص دانشمند ملا مگر کپڑے پھٹے ہوئے، بھوک کا مارا ہوا سر پرپگڑی نہیں اس نے اس کو مشورہ دیا کہ تو نے ان جواہرات کو نصف نصف کیوں نہ دونوں طرف ڈالا اب نا حق جانور کو تکلیف دے رہا ہے اس نے جواب دیا کہ میں تیری عقل نہیں برتتا تیری عقل کے ساتھ نحوست ہے بلکہ میں تجھ بد بخت کا مشورہ بھی قبول نہیں کرتا۔فروتنی انسان کو چاہیے کہ جب کہیں جاوے توسب سے نیچی جگہ اپنے لیے تجویز کرے اگر وہ کسی اَور جگہ کے لائق ہوگا تو میزبان خود اسے بلا کر جگہ دے گا اور اس کی عزّت کرے گا۔عوام الناس کی کم فہمی عوام الناس کی کم فہمی پر فرمایاکہ جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ متشابہات کی طرف جاتے ہیں جن لوگوں نے حضرت موسٰی اورعیسیٰؑ اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہ کیا انہوں نے آیات ِبیّنہ سے فائدہ نہیں اٹھایا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک حبشی عورت سے نکا ح کیا تو لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ اگر یہ منجانب اللہ ہوتا تو حبشن سے نکا ح نہ کرتا اس ذرا سی بات پران کے تمام معجزات کو نظر انداز کر دیا۔(مجلس قبل ازعشاء) مُعَبِّـر کی رائے کااثر تعبیر پر نہیں پڑتا ایک شخص نے سوال کیا کہ جب خواب بیان کیا جاتا ہے تو یہ بات مشہور ہے کہ سب سے اوّل جو تعبیر مُعَبِّـر کرے وہی ہوا کرتی ہے اور اسی بنا پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہر کس وناکس کے سامنے خواب بیان نہ کرنا چاہیے۔فرمایا۔جو خواب مبشر ہے اس کا نتیجہ انذار نہیں ہوسکتا اور جو منذر ہے وہ مبشر نہیں ہوسکتا اس لیے یہ بات غلط ہے کہ اگر مبشر کی تعبیر کوئی مُعَبِّـر منذر کی کرے تووہ منذر ہو جاوے گا اور منذر مبشر ہو جاوے گا