ملفوظات (جلد 5) — Page 92
عورت مرد کا معاملہ آپس میں جو ہوتا ہے اس پر دوسرے کو کامل اطلاع نہیں ہوتی بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی فحش عیب عورت میں نہیں ہوتا مگر تاہم مزاجوں کی نا موافقت ہوتی ہے جو کہ باہمی معاشرۃ کی مخل ہوتی ہے ایسی صورت میں مرد طلاق دے سکتا ہے۔بعض وقت عورت گو ولی ہو اور بڑی عابد اور پرہیز گار اور پاکدامن ہو اور اس کو طلاق دینے میں خاوند کو بھی رحم آتا ہو بلکہ وہ روتا بھی ہو مگر پھر بھی چونکہ اس کی طرف سے کراہت ہوتی ہے اسی لیے وہ طلاق دے سکتا ہے مزاجوں کا آپس میں موافق نہ ہونا یہ بھی ایک شرعی اَمر ہے اس لیے ہم اب اس میں دخل نہیں دے سکتے جو ہوا سوہوا۔مہر کا جو جھگڑا ہووہ آپس میں فیصلہ کر لیا جاوے۔۱ ۲۷؍اپریل ۱۹۰۳ء ( بوقتِ سیر) ضرورت حَکم جب مدت درازگذر جاتی ہے اور غلطیاں پڑ جاتی ہیں تو خدا ایک حََکم مقرر کرتا ہے جو ان غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیحؑ کے سات سو برس بعدآئے اس وقت ساتویں صدی میں ضرورت پڑی تو کیا اب چودہویں صدی میں بھی ضرورت نہ پڑتی اور پھر جس حال میں کہ ایک ملہم ایک صحیح حدیث کو وضعی اور وضعی کو صحیح بذریعہ الہام کے قرار دے سکتا ہے اور یہ اصول ان لوگوں کا مسلّم ہے تو پھر حَکَم کو کیوں اختیار نہیں ہے؟ ایک حدیث کیا اگر وہ ایک لاکھ حدیث بھی پیش کریں توان کی پیش کب چل سکتی ہے؟ اَلْعِزَّۃُ لِلّٰہِ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ذکر پر فرمایا کہ انہوں نے لکھا تھا کہ ہم ہی نے اونچا کیا تھا اور ہم ہی اسے نیچا گرادیں گے مگر ہم پو چھتے ہیں کہ انہوں نے چڑ ھا نے کے لیے کیا کوشش کی تھی ہم پر تو سوائے خدا کے کسی کاذرّہ بھر بھی احسان نہیں ہاں اب گرانے کے لیے انہوں نے بہت کوشش کی اور جتنی اس نے کی اور کسی نے مطلق نہیں کی مگر خدا کے آگے کس کی پیش چلتی ہے۔اس کے بعد مو لوی صاحب کی شہادت قتل کے مقدمہ میں اور وہاں کر سی وغیرہ مانگنے کا ذکر ہوتا رہا اس پر حضرت نے فرمایا کہ قلوب میں عظمت ڈالنا خدا کا کام ہے علماء دین کے واسطے ظاہر ی بلندی چاہنی عیب میں داخل ہے قلوب میں عظمت ڈالنی انسانی ہاتھ کا کام نہیں ہے یہ ایک کشش ہوتی ہے جو کہ خدا کے ارادہ سے ہوتی ہے ہم کیا کر رہے ہیں جو ہزارہا آدمی کھچے چلے آتے ہیں یہ سب خدا کی کشش ہے ان لوگوں کی علمیت اور حکمت دانا ئی ان کے کچھ کام نہ آئی۔مثنوی میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک شخص دولت مند تھا مگر بچا رے کی عقل کم تھی وہ کہیں جانے لگا تواس نے گدھے پر بورے میں ایک طرف جواہرڈالے اوروزن کو برابر کرنے کے واسطے ایک طرف اتنی ریت ڈال دی آگے چلتے چلتے اسے ایک شخص دانشمند ملا مگر کپڑے پھٹے ہوئے، بھوک کا مارا ہوا سر پرپگڑی نہیں اس نے اس کو مشورہ دیا کہ تو نے ان جواہرات کو نصف نصف کیوں نہ دونوں طرف ڈالا اب نا حق جانور کو تکلیف دے رہا ہے اس نے جواب دیا کہ میں تیری عقل نہیں برتتا تیری عقل کے ساتھ نحوست ہے بلکہ میں تجھ بد بخت کا مشورہ بھی قبول نہیں کرتا۔