ملفوظات (جلد 4) — Page 91
تورات میں لکھا ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیا مصر میں ہمارے لئے قبریں نہ تھیں اور یہ اضطراب اس وجہ سے پیدا ہوا کہ پیچھے فرعون کا لشکر اور آگے دریائے نیل تھا وہ دیکھتے تھے کہ نہ پیچھے جا کر بچ سکتے ہیں اور نہ آگے جا کر مگر اﷲ تعالیٰ قادر مقتدر خدا ہے۔دریائے نیل میں سے انہیں راستہ مل گیا اور سارے بنی اسرائیل آرام کے ساتھ پار ہو گئے۔مگر فرعونیوں کا لشکر غرق ہو گیا۔سید احمد خاں صاحب اس موقع پر لکھتے ہیں کہ یہ جوار بھاٹا تھا۔مگر ہم کہتے ہیں کچھ ہو اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ عظیم الشان معجزہ تھا جو ایسے وقت پر اﷲ تعالیٰ نے ان کے لئے راہ پیدا کردی اور یہی متقی کے ساتھ ہوتا ہے کہ ہر ضیق سے اسے نجات اور راہ ملتی ہے يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا (الطّلاق: ۳)۔دعا اور ابتلا غرض ایسا ہوتا ہے کہ دعا اور اس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلا پر ابتلا آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلا بھی آجاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں مگر مستقل مزاج سعید الفطرت ان ابتلائوں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے۔ان ابتلائوں کے آنے میں ایک سِرّ یہ بھی ہوتا ہے کہ دعا کے لئے جوش بڑھتا ہے۔کیونکہ جس جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔پس کبھی گھبرانا نہیں چاہیے اور بے صبری اور بے قراری سے اپنے اﷲ پر بد ظن نہیں ہونا چاہیے۔یہ کبھی بھی خیال کرنا نہیں چاہیے کہ میری دعا قبول نہ ہوگی یا نہیں ہوتی۔ایسا وہم اﷲ تعالیٰ کی اس صفت سے انکار ہو جاتا ہے کہ وہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔قبولیت دعا کے سلسلہ میں ایک نکتہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک اَمر کے لئے دعا کرتا ہے۔مگر وہ دعا اس کی اپنی نا واقفی اور نادانی کا نتیجہ ہوتی ہے۔یعنی ایسا اَمر خدا سے چاہتا ہے جو اس کے لئے کسی صورت سے مفید اور نافع نہیں ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی دعا کوتو ردّ نہیں کرتا لیکن کسی اور صورت میں پورا کر دیتا ہے مثلاً ایک زمیندار جس کو ہل چلانے کے لئے بیل کی ضرورت ہے۔وہ بادشاہ سے جا کر ایک اونٹ کا سوال کرے اور