ملفوظات (جلد 4) — Page 89
مگر ان کو معلوم نہیں کہ یہ دراصل تغیرات نطفہ کی طرف اِیما ہے۔یعنی جن جن تغیرات سے نطفہ طیار ہوتا ہے اس کو اس شعر میں ظاہر کیا گیا ہے۔شائد بہت تھوڑے آدمی ایسے ہوں گے جن کو یہ معلوم ہو کہ نطفہ بہت سے تغیرات سے بنتا ہے۔جس اناج سے نطفہ بنا ہے نطفہ کی حالت میں آنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ نے اس کو بہت سے تغیرات میں ڈالا ہے اور پھر اس کو محفوظ رکھا ہے کیونکہ وہ درحقیقت نطفہ ہے۔اپنے وقت پر وہ پیسا بھی جاتا ہے اور اس سے روٹی بھی طیار کی جاتی ہے لیکن وہ محفوظ کا محفوظ چلا آتا ہے۔آج کل نطفہ کے متعلق جو تحقیقات ہوئی ہے تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس میں کیڑے ہوتے ہیں یہ ایک الگ اَمر ہے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اصل میں وہ ایک قوت ہے جو برابر محفوظ چلی آتی ہے ممکن ہے کہ جو کچھ ڈاکٹروں نے سمجھا ہو وہ اسی قوت کو سمجھا ہو۔ہر اناج کے ساتھ انسانیت کا خاصّہ نہیں بلکہ وہ جوہرِ قابل الگ ہی ہے اور اس کو وہی کھاتا ہے جس کے لئے وہ مقدر ہوتا ہے اور وہ اسی دن کے لئے مقدر ہوتا ہے۔وہ نطفہ جس میں روحانیت کی جز ہے بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ مضغہ علقہ وغیرہ چھ حالتوں میں سے گذرتا ہے اور ان چھ تغیرات کے بعد ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ (المومنون: ۱۵)کا وقت آتا ہے اب اس آخری تبدیلی کو نشاءِآخری کہا ہے یہ نہیں کہا ثُمَّ اَنْزَلْنٰہُ رُوْحًا اٰخَرَ۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ باہر سے کوئی چیز نہیں آتی۔اب اس کو خوب غور سے سوچو تو معلوم ہوگا کہ روح کا جسم کے ساتھ کیسا ابدی تعلق ہے۔پھر یہ کیسی بے ہودگی ہے جو کہا جاوے کہ جسم کا روح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ کس قدر زبردست ثبوت روح کی ہستی کا ہے۔اس کو کوئی معمولی نگاہ سے دیکھے تو اور بات ہے لیکن معقولیت اور فلسفہ سے سوچے تو اس سے انکار نہیں کرسکتا۔اسی طرح ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ دنیا میں کبھی کوئی شخص کامیاب نہیں ہوا جو جسم اور روح دونوں سے کام نہ لے۔اگر روح کوئی چیز نہیں تو ایک مُردہ جسم سے کوئی کام کیوں نہیں ہوسکتا؟ کیا اس کے سارے اعضا اور قویٰ موجود نہیں ہوتے۔اب یہ بات کیسی صفائی کے ساتھ سمجھ میں آتی ہے کہ روح اور جسم کا تعلق جب کہ ابدی ہے۔پھر کیوں کسی ایک کو بے کار قرار دیا جاوے۔