ملفوظات (جلد 4) — Page 82
اسلام میں رہبانیت پسندیدہ نہیں قرآن شریف سے پہلے دو قومیں تھیں۔ایک براہمہ کہلاتی تھی جو رہبانیت کو پسند کرتی تھی اور اپنی زندگی کا اصل منشا یہی سمجھ بیٹھے ہوئے تھے۔عیسائی قوم میں بھی ایسے لوگ ہوتے تھے جو راہب ہونا پسند کرتے تھے اور ہوتے تھے۔رومن کتھولک عیسائیوں میں اب تک ایسے لوگ موجود ہیں اور یہ طریق ان میں جاری ہے کہ وہ راہبانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔مگر اب ان کی رہبانیت اس حد تک ہی ہے کہ وہ شادی نہیں کرتے ورنہ ہر طرح عیش و عشرت اور آرام کے ساتھ کوٹھیوں میں رہتے اور مکلّف لباس پہنتے اور عمدہ کھانے کھاتے ہیں اورجس قسم کی زندگی وہ بسر کرتے ہیں عام لوگ جانتے ہیں۔مگر میری مراد رہبانیت سے اس وقت یہی ہے کہ وہ فرقہ جو اپنے آپ کو تعذیب بدن میں ڈالتا تھا اور دوسرا فرقہ ان کے مقابل وہ تھا جواباحت کی زندگی بسر کرتا تھا۔اسلام جب آیاتو اس نے ان دونو کو ترک کیا اور صراط مستقیم کو اختیار کیا۔اس نے بتایا کہ انسان نہ رہبانیت اختیار کرے جس سے وہ نفس کُش ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں کو بالکل بےکار چھوڑ دے اور اس طرح پر ان اخلاق فاضلہ کے حصول سے محروم ہو جاوے جو ان قوتوں کے اندر ودیعت کئے گئے ہیں کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ جس قدر قوتیں انسان کود ی گئی ہیں یہ سب کی سب دراصل اخلاقی قوتیں ہیں۔غلطی استعمال کی وجہ سے یہ اخلاق بداخلاقیوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اس لئے اسلام نے رہبانیت سے منع کیا اور فرمایا لَا رَھْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ۔اباحت اسلام چونکہ انسان کی کامل تربیت چاہتا ہے اور اس کی ساری قوتوں کا نشوونما اس کا مقصد ہے۔اس لئے اس نے جائز نہ رکھا کہ وہ طریق اختیار کیا جاوے جو انسان کی بے حرمتی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی توہین کرنے والاٹھہر جاوے اور پھر اسلام کا منشا یہ ہے کہ وہ انسان کو افراط تفریط کی راہوں سے اس اعتدال کی راہ پر چلاوے جو صراط مستقیم ہے۔اس لئے اس نے اباحت کے مسئلہ کی بھی تردید کی یہ دوسرا فرقہ تھا جو قرآن شریف سے پہلے موجود تھا۔وہ سب کچھ جائز سمجھتا تھا اور آزادی اور بے قیدی میں اپنی زندگی بسر کرتا تھا۔ساری راحتوں اور لذتوں کی