ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 79

باہم خدا تعالیٰ نے ایک تعلق رکھا ہوا ہے اور جسم کا اثر روح پر پڑتا ہے۔مثلاً اگر ایک شخص تکلف سے رونا چاہے تو آخر اس کو رونا آہی جائے گا اور ایسا ہی جو تکلف سے ہنسنا چاہے اسے ہنسی آہی جاتی ہے۔اسی طرح پر نماز کی جس قدر حالتیں جسم پر وارد ہوتی ہیں مثلاً کھڑا ہونا یا رکوع کرنا۔اس کے ساتھ ہی روح پر بھی اثر پڑتا ہے اور جس قدر جسم میں نیاز مندی کی حالت دکھاتا ہے اسی قدر روح میں پیدا ہوتی ہے۔اگرچہ خد انرے سجدہ کو قبول نہیں کرتا مگر سجدہ کو روح کے ساتھ ایک تعلق ہے اس لئے نماز میں آخر ی مقام سجدہ کا ہے۔جب انسان نیاز مندی کے انتہائی مقام پر پہنچتا ہے تو اس وقت وہ سجدہ ہی کرنا چاہتا ہے۔جانوروں تک میں بھی یہ حالت مشاہدہ کی جاتی ہے۔کتّے بھی جب اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں تو آکر اس کے پائوں پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں اور اپنی محبت کے تعلق کا اظہار سجدہ کی صورت میں کرتے ہیں۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جسم کو روح کے ساتھ خاص تعلق ہے ایسا ہی روح کی حالتوں کا اثر جسم پر نمودار ہو جاتا ہے۔جب روح غمناک ہو تو جسم پر بھی اس کے اثر ظاہر ہوتے ہیں اور آنسو اور پژمُردگی ظاہر ہوتی ہے۔اگر روح اور جسم کا باہم تعلق نہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے؟دوران خون بھی قلب کا ایک کام ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ قلب آبپاشی جسم کے لئے ایک انجن ہے۔اس کے بسط اور قبض سے سب کچھ ہوتا ہے۔غرض جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں۔روح میں جب عاجزی پید اہو تی ہے پھر جسم میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے جب روح میں واقعی عاجزی اور نیاز مندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خود بخود ظاہر ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے تو روح بھی اس سے متاثر ہو ہی جاتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے حضور نماز میں کھڑے ہو تو چاہیے کہ اپنے وجود سے عاجزی اور ارادت مندی کا اظہار کرو۔اگر چہ اس وقت یہ ایک قسم کا نفاق ہوتا ہے۔مگر رفتہ رفتہ اس کا اثر دائمی ہو جاتا ہے اور واقعی روح میں وہ نیا زمندی اور فروتنی پیدا ہونے لگتی ہے۔