ملفوظات (جلد 4) — Page 77
مدت دراز تک انسان کو دعائوں میں لگے رہنا پڑتا ہے۔آخر خدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے۔میں نے اپنے تجربہ سے دیکھا ہے اور گذشتہ راست بازوں کا تجربہ بھی اس پر شہادت دیتا ہے کہ اگر کسی معاملہ میں دیر تک خاموشی کرے تو کامیابی کی امید ہوتی ہے لیکن جس اَمر میں جلد جواب مل جاتا ہے وہ ہونے والا نہیں ہوتا۔عام طور پر ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ایک سائل جب کسی کے دروازہ پر مانگنے کے لئے جاتا ہے اور نہایت عاجزی اور اضطراب سے مانگتا ہے اور کچھ دیر تک جھڑکیاں کھا کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا اور سوال کئے ہی جاتا ہے تو آخر اس کو بھی کچھ شرم آہی جاتی ہے خواہ کتنا ہی بخیل کیوں نہ ہو پھر بھی کچھ نہ کچھ سائل کو دے ہی دیتا ہے۔تو کیا دعا کرنے والے کو کم از کم ایک معمولی سائل جتنا استقلال بھی نہیں ہونا چاہیے؟ اور خدا تعالیٰ جو کریم ہے اور حیارکھتا ہے جب دیکھتا ہے کہ اس کا عاجز بندہ ایک عرصہ سے اس کے آستانہ پر گرا ہوا ہے تو کبھی اس کا انجام بد نہیں کرتا۔اگر انجام بد ہو تو اپنے ظن سے ہوتا ہے جیسے ایک حاملہ عورت چار پانچ ماہ کے بعد کہے کہ اب بچہ کیوں پیدا نہیں ہوتا اور اس خواہش میں کوئی مسقط دوا کھالے تو اس وقت کیا بچہ پیدا ہوگا یا ایک مایوسی بخش حالت میں وہ خود مبتلا ہوگی؟اسی طرح جو شخص قبل ازوقت جلدی کرتا ہے وہ نقصان ہی اٹھاتا ہے اور نہ نرا نقصان بلکہ ایمان کو بھی صدمہ پہنچاتا جاتا ہے۔بعض ایسی حالت میں دہریہ ہو جاتے ہیں۔ہمارے گائوں میں ایک نجار تھا۔اس کی عورت بیمار ہوئی اور آخر وہ مَر گئی۔اس نے کہا کہ اگر خدا ہوتا تو میں نے اتنی دعائیں کیں تھیں وہ قبول ہو جاتیں اور میری عورت نہ مَرتی اور اس طرح پر وہ دہریہ ہو گیا۔لیکن سعید اگر اپنے صدق اور اخلاص سے کام لے تو اس کا ایمان بڑھتا ہے اور سب کچھ ہو بھی جاتا ہے زمین کی دولتیں خدا تعالیٰ کے آگے کیا چیز ہیں۔وہ ایک دم میں سب کچھ کرسکتا ہے۔کیا دیکھا نہیں کہ اس نے اس قوم کو جس کو کوئی جانتا بھی نہ تھا بادشاہ بنا دیا۔اور بڑی بڑی سلطنتوں کو ان کا تابع فرمان بنا دیا اور غلاموں کو بادشاہ بنا دیا۔انسان اگرتقویٰ اختیار کرے اور خدا تعالیٰ کا ہو جاوے تو دنیا میں اعلیٰ درجہ کی زندگی ہو مگر شرط یہی ہے کہ صادق اور جواں مَرد ہو کر دکھائے۔دل متزلزل نہ ہو اور اس میں کوئی آمیزش ریاکاری اور شرک کی نہ ہو۔