ملفوظات (جلد 4) — Page 76
قبولیت دعا کے لئے صبر اور محنت کی ضرورت یہ سچی بات ہے کہ دعا میں بڑے بڑے مراحل اور مراتب ہیں جن کی ناواقفیت کی وجہ سے دعا کرنے والے اپنے ہاتھ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ان کو ایک جلدی لگ جاتی ہے اور وہ صبر نہیں کرسکتے حالانکہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں ایک تدریج ہوتی ہے۔دیکھو! یہ کبھی نہیں ہوتا کہ آج انسان شادی کرے تو کل کو اس کے گھر بچہ پیدا ہو جاوے حالانکہ وہ قادر ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر جو قانون اور نظام اس نے مقرر کر دیا ہے وہ ضروری ہے۔پہلے نباتات کی نشوونما کی طرح کچھ پتا ہی نہیں لگتا۔چار مہینے تک کوئی یقینی بات نہیں کہہ سکتا۔پھر کچھ حرکت محسوس ہونے لگتی ہے اور پوری میعاد گذرنے پر بہت بڑی تکالیف برداشت کرنے کے بعد بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔بچہ کا پیدا ہونا ماں کا بھی ساتھ ہی پیدا ہونا ہوتا ہے۔مَرد شاید ان تکالیف اور مصائب کا اندازہ نہ کرسکیں جو اس مدت حمل کے درمیان عورت کو برداشت کرنی پڑتی ہیں۔مگر یہ سچی بات ہے کہ عورت کی بھی ایک نئی زندگی ہوتی ہے۔اب غور کرو کہ اولاد کے لئے پہلے ایک موت خود اس کو قبول کرنی پڑتی ہے۔تب کہیں جا کر وہ اس خوشی کو دیکھتی ہے۔اسی طرح پر دعا کرنے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ تلون اور عجلت کو چھوڑ کر ساری تکلیفوں کو برداشت کرتا رہے اور کبھی بھی یہ وہم نہ کرے کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔آخر آنے والا زمانہ آجاتا ہے۔اور دعا کے نتیجہ کے پیدا ہونے کا وقت پہنچ جاتا ہے جب کہ گویا مراد کا بچہ پید اہوتا ہے۔دعا کو پہلے ضروری ہے کہ اس مقام اور حدتک پہنچایا جاوے جہاں پہنچ کر وہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔جس طرح پر آتشی شیشے کے نیچے کپڑا رکھ دیتے ہیں اور سورج کی شعائیں اس شیشہ پر آکر جمع ہوتی ہیں اور ان کی حرارت و حدّت اس مقام تک پہنچ جاتی ہے جو اس کپڑے کو جلا دے۔پھر یکایک وہ کپڑا جل اٹھتا ہے۔اس طرح پر ضروری ہے کہ دعا اس مقام تک پہنچے جہاں اس میں وہ قوت پیدا ہو جاوے کہ نامرادیوں کو جلادے اور مقصد مراد کو پورا کرنے والی ثابت ہو جاوے ع پیدا است نگارا را کہ بلند است جنابت