ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 72

اس میں آگئے ہیں۔خدا کی قدرت ہے۔دیر کا باعث ایک یہ ہو جاتا ہے کہ لغات جو دل میں آتے ہیں پھر ان کو کتب لغت میں دیکھنا پڑتا ہے۔میرا دل اس وقت گواہی دیتا ہے کہ اندر فرشتہ بول رہا ہے۔جب محمد علی صاحب لکھتے ہوں گے تو ان کا بھی ایسا ہی حال ہوگا کیونکہ وہ بھی ہماری تائید میں ہی ہے۔رات آدھی رات جب تک مضمون ختم نہ ہولے جاگتا رہوں گا۔۱ ۱۴؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز چہار شنبہ(بوقتِ فجر) حضرت اقدس نے تشریف لا کر فرمایا کہ میں کتاب تو ختم کر چکا ہوں۔رات آدھی رات تک بیٹھا رہا۔نیت تو ساری رات کی تھی مگر کام جلدی ہی ہو گیا۔اس لئے سو رہا۔اس کا نام مواہب الرحـمٰن رکھا ہے۔(بوقتِ ظہر) ایک سَقّا کی وفات اور اس پر الہام کا انطباق ایک سقہ جو کہ حضرت اقدس کے ہاں پانی بھراکرتا تھا وہ ایک ناگہانی موت سے مَر گیا۔اور اسی دن اس کی شادی تھی۔اس کی موت پر آپ نے فرمایا کہ مجھے خیال آیا کہقُتِلَ خَیْبَۃً وَّزِیْدَ ھَیْبَۃً جو وحی ہوئی تھی وہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔۲ ۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز پنجشنبہ(بوقتِ فجر) خدا کے کام کے لئے جاگنا جہاد ہے خدا کے برگزیدہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آکر فرمایا کہ رات تین بجے تک جاگتا رہا تو کاپیاں اور پروف صحیح ہوئے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۳؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۹ ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍ فروری۱۹۰۳ء صفحہ ۳۴