ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 68

ہوں کہ ان لوگوں سے کوئی بحث نہیں کروں گا۔اس وقت پھر اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔صرف آپ کو یہ موقع دیا جاوے گا کہ آپ اوّل ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیشگوئی پر ہوایک سطر یا دو سطر یا حد تین سطر تک لکھ کر پیش کریں جس کا یہ مطلب ہو کہ یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی اور منہاج نبوت کی رو سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں۔پھر دوسرے دن دوسری پیشگوئی اسی طرح لکھ کر پیش کریں۔یہ تو میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جائوں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہوگی کہ ایک کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور(۲) آپ کو بھی خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر آپ سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جاویں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں۔اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص اعراض کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہو اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔آمین۔سو میں اب دیکھوں گا کہآپ سنّت نبویہ کے موافق اس قسم کو پوری کرتے ہیں یا قادیان سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں۔اور چاہیے کہ اوّل آپ مطابق اس عہد مؤکدبقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر کا لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کرکے مسجد میں مجمع کیا جاوے گا اور آپ کو بتلا یا جاوے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دیئے جاویں گے۔‘‘ رقعہ دے کر آپ تشریف لے گئے اور اندر سے حضور نے کہلا بھیجا کہ رقعہ وہاں ان کو جا کر سنا دیا جاوے اور پھر ان کے حوالے کر دیا جاوے۔تھوڑے عرصہ کے بعد پھر مولوی ثناء اﷲ صاحب کی طرف سے جواب الجواب آیا۔۱ یہ نا معقول اور اصل بحث سے بالکل دور جواب سن کر حضرت اقدس کو بہت رنج ہوا اور آپ نے فرمایا کہ ہم نے جو اسے خدا کی قسم دی تھی اس سے فائدہ اٹھاتا یہ نظر نہیں آتا۔اب خد اکی لعنت لے کر ۱ البدر جلد ۱نمبر ۱۲ مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۳، ۹۴