ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 53

صرف نوح کی قوم پر تباہی آئی تھی۔مماثلت کی حقیقت ایک شخص نے سوال کیا کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب مسیح ناصری کے آنے سے ختم نبوت ٹوٹتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی؟ فرمایا کہ مسیح کا یہ دعویٰ کہاں ہے کہ جس طرح ہم اپنے آپ کو امت محمدیہ میں اور پھر آنحضرتؐکی اتباع میں فنا شدہ کہتے ہیں انہوں نے بھی کہا ہو۔وہ تو حضرت موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنے والے تھے اور مماثلت کا سلسلہ چاہتا ہے کہ کوئی اور ہی آوے وہ نہ آویں۔مماثلت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ بالکل اس کا عین ہو۔جیسے کسی کو شیر کہیں تو اب اس کے لئے دم تجویز کریں اور پھر گوشت کا کھانا بھی۔خدا کے کلام میں استعارات ہوا کرتے ہیں مثلاً کسی کو کہا جاوے کہ اس نے ایک رکابی چاولوں کی کھائی تو اس کے یہ معنے نہ ہوں گے کہ وہ رکابی کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے کھاگیا۔مماثلت میں صرف بعض پہلوئوں میں تشابہ ہوتا ہے جیسے آنحضرتؐکو مثیلِ موسیٰ کہا کہ جیسے موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون سے چھڑایا آنحضرتؐنے بھی اپنی قوم کو طاغوت اور بتوں سے رہائی دلوائی۔مشابہت میں ہو بہو عین نہیں ہوتا۔ورنہ وہ تو پھر حقیقت ہوگی نہ کہ مشابہت۔قادیان عرب صاحب نے ادھر ادھر غیر آبادی کو دیکھ کر عرض کی کہ یہ صرف حضور ہی کا دم ہے کہ جس کی خاطر اس قدر انبوہ ہے ورنہ اس غیر آباد جگہ میں کون اور کب آتا۔فرمایا کہ اس کی مثال مکہ کی ہے کہ وہاں بھی عرب لوگ دور دراز جگہوں سے جا کر مال وغیرہ لاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر کھاتے ہیں۔اسی کی طرف اشارہ ہے اس سورۃ میں لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ اٖلٰفِهِمْ۔(قریش:۲) ایک اعتراض کا جواب لوگوں کے اس اعتراض پر کہ جو شخص لا وارث مَر جاتا ہے اس کے وارث میرزا صاحب ہو جاتے ہیں اور اس طرح سے بہت ملک املاک جمع کرتے جاتے ہیں۔فرمایا کہ والد صاحب ایسے دنیاوی کاموں میں مجھے مامور کر دیا کرتے تھے اور ان کے حکم اور