ملفوظات (جلد 4) — Page 42
تقابل میں بھی وہی عظمت دکھاتا۔اور ہم ظاہر طور پر دیکھتے ہیں کہ دونوں تعلیموں میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے جیسے کہ قرآن شریف حقائق اور معارف سے بھرا ہوا ہے توریت، انجیل بالکل ان سے خالی ہے۔ان کی کل تعلیم قصص کے رنگ میں ہے اور قرآن شریف علوم کا خزانہ ہے۔ان دونوں سلسلوں کا اقتضاء اس وجہ سے بھی تھا کہ چونکہ اسحاق ؑاور اسماعیل ؑدونوں بھائی تھے اور دونوں میں برکات کی تقسیم مساوی تھیں۔تصفیہ تقسیم تب ہی ہوتا کہ دونوں سلسلوں میں باہم تطابقت اور عین موافقت ہوتی۔اسماعیل ؑ کی اولاد میں اﷲ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان نبی مبعوث فرمایا جس کی امت کو كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (اٰل عـمران: ۱۱۱) کہا کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو کیونکہ وہ لوگ جن کو شریعت قصہ کے رنگ میں ملی تھی وہ دماغی علوم کی کتاب و شریعت کے ماننے والوں کے کب برابر ہوسکتے ہیں۔پہلے صرف قصص پر راضی ہو گئے اور ان کے دماغ اس قابل نہ تھے کہ حقائق و معارف کو سمجھ سکتے۔مگر اس امت کے دماغ اعلیٰ درجہ کے تھے اسی لئے شریعت اور کتاب علوم کا خزانہ ہے جو علوم قرآن مجید لے کر آیا ہے وہ دنیا کی کسی کتاب میں پائے نہیں جاتے۔اور جیسے شریعت کے نزول کے وقت وہ اعلیٰ درجہ کے حقائق و معارف سے لبریز تھی ویسے ہی ضروری تھا کہ ترقی علوم و فنون سب اسی زمانہ میں ہوتا۔بلکہ کمال انسانیت بھی اسی میں پورا ہوا۔قرآن شریف حقیقی علوم کا جامع ہے اس مقام پر عرب صاحب نے سوال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتر بھی یونان وغیرہ میں علوم کا چرچا تھا۔فرمایا۔علوم سے مراد دنیوی علوم نہیں ہے اور نہ ہیں۔ان ارضی علوم سے کچھ تعلق نہیں۔علوم حقیقی وہی ہوتے ہیں جو انبیاء لے کر آتے ہیں۔اور ارضی اور سفلی علوم جو دنیا کے لوگ سمجھتے ہیں۔جیسے تار، ریل، غبارہ یا کلوں کی ایجاد وغیرہ یہ کھیلیں ہیں اور ارضی چیزیں ہیں جو جونہی انسان مَر جاتا ہے اس کے ساتھ ہی فنا ہو جاتی ہیں مگر وہ علوم جو انبیاء لے کر آتے ہیں وہ مَرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ان کو کبھی فنا نہیں۔ان علوم سے مراد خدا کے علوم ہیں (پھر اسی سلسلہ میں اصل مطلب کی طرف رجوع