ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 40

(دربارِ شام)۱ عربی تصانیف کی اہمیت عربی تصانیف کے متعلق اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ اگر یہ سلسلہ نہ ہوتا تو یہ سب مولوی ہماری جماعت کو نظر استخفاف سے دیکھتے اور کہتے کہ یہ لوگ جاہل ہیں۔مگر اب خود ہی بولنے کے لائق نہیں رہے۔اسی سلسلہ کلام میں ابو سعید عرب صاحب نے عرض کیا کہ اگرچہ میں نے حضور کی تصنیفات کو مطالعہ نہیں کیا مگر میرا ایمان ہے کہ حضور بالکل سچے ہیں اور مسیح اور مہدی کا دعویٰ حق ہے۔مگر دوسرے لوگوں سے کلام کرنے کے لئے میں چاہتا ہوں کہ حضور کی زبان مبارک سے مسیح موعود ہونے کا ثبوت سنوں۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا۔ہم اس کو اختصار کے طور پر لکھیں گے کیونکہ اس مضمون کے متعلق بسط کے ساتھ کلمات طیبات میں بھی ایک مضمون چھپ رہا ہے۔بہرحال آپ نے فرمایا۔مسیح موعود ہونے کا ثبوت قرآن پر تدبّر سے نظر کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ دوسلسلوں کا مساوی ذکر ہے۔اوّل وہ سلسلہ جو موسیٰ سے شروع ہو کر مسیح علیہ السلام پر ختم ہوتا ہے۔اور دوسرا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوتا ہے یہ اس شخص پر ختم ہونا چاہیے جو مثیل مسیح ہو۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ۔۔۔۔الاٰیۃ (المزّمل: ۱۶) اور پھر سورۃ نور میں وعدہ استخلاف فرمایا کہ جس طرح پر موسوی سلسلہ ہو گذرا ہے اسی طرح پر محمدی سلسلہ بھی ہوگا تاکہ دونو سلسلوں میں بموجب آیات قرآنی باہم مطابقت اور موافقت تامہ ہو۔چنانچہ جب کہ موسوی سلسلہ آخر عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا ضروری تھا کہ محمدی سلسلہ کا خاتم بھی عیسیٰ موعود ہوتا۔ان دونو سلسلوں کا باہم تقابل مرایا متقابلہ کی ۱ چونکہ اس دن کی شام کی ڈائری البدر کی نسبت الحکم میں زیادہ مفصل اور مربوط ہے۔اس لئے شام کی ڈائری الحکم سے یہاں درج کی گئی ہے۔(مرتّب)