ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 39

ہے۔اس کے کیا اسباب ہیں۔ان لوگوں کا دستور ہے کہ جب ان کو ایک بات کا سبب معلوم نہ ہو تو اس سے انکار کر بیٹھتے ہیں اور اسی لئے وحی اور الہام کے منکر ہیں۔یہ علوم بے انتہا ہیں۔جب تک بے اعتدالیوں کا حصہ دور نہ کرے اس سے واقف نہیں ہوسکتا۔اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى (النّٰزعٰت: ۴۱) جو خواہش جائز اپنے مقام اعتدال سے بڑھ جاوے۔اس کا نام ھوٰی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رئویا کوئی تیس سال کا عرصہ گذرا میں نے ایک دفعہ خواب دیکھاکہ بٹالہ کے مکانات میں ایک حویلی ہے۔اس میں ایک سیاہ کمبل پر میں بیٹھا ہوں اور لباس بھی کمبل ہی کی طرح پہنا ہوا ہے۔گویا کہ دنیا سے الگ ہوا ہوں۔اتنے میں ایک لمبے قد کا شخص آیا اور مجھے پوچھتا ہے کہ میرزا غلام احمد، غلام مرتضیٰ کا بیٹا کہاں ہے۔میں نے کہا میں ہوں۔کہنے لگا کہ میں نے آپ کی تعریف سنی ہے کہ آپ کو اسرار دینی اور حقائق اور معارف میں بہت دخل ہے۔یہ تعریف سُن کر ملنے آیا ہوں۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا۔اس پر اس نے آسمان کی طرف منہ کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور بہہ کر رخسار پر پڑتے تھے۔ایک آنکھ اوپر تھی اور ایک نیچے اور اس کے منہ سے حسرت بھرے یہ الفاظ نکل رہے تھے۔’’ تہید ستان عشرت را‘‘ اس کا مطلب میں نے یہ سمجھا کہ یہ مرتبہ انسان کو نہیں ملتا جب تک کہ وہ اپنے اوپر ایک ذبح اور موت وارد نہ کرے۔اس مقام پر عرب صاحب نے حضرت کا یہ شعر پڑھا۔جس میں یہ کلمہ منسلک تھا کہ ’’ میخواہد نگار من تہیدستان عشرت را‘‘ حضرت نے فرمایا کہ میں نے پھر اس کلمہ کو اس مصرعہ میں جوڑ دیا کہ یاد رہے۔(آئینہ کمالات اسلام میں اس پر ایک نظم لکھی ہوئی ہے) ۱ ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۶؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸، ۱۹