ملفوظات (جلد 4) — Page 35
کھلاوے۔الخ۔ایک طبیب کے پاس انسان اگر اوّل ہی صاف ستھرا اور مرض سے اچھا ہو کر آوے تو اس نے طبابت کیا کرنی ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی غفوریت کیسے کام کرے۔بندوں نے گناہ کرنے ہی ہیں تو اس نے بخشنے ہیں۔ہاں ایک بات ضرور ہے کہ وہ گناہ نہ کرے جس میں سرکشی ہو ورنہ دوسرے گناہ جو انسان سے سرزد ہوتے ہیں اگر ان سے بار بار بذریعہ دعا کے خدا سے تزکیہ نفس چاہے گا تو اسے قوت ملے گی۔بلاقوت اﷲ تعالیٰ کے ہرگز ممکن نہیں ہے کہ اس کاتزکیہ نفس ہو اور اگر ایسی عادت رکھے کہ جو کچھ نفس نے چاہا اسی وقت کر لیا تواس سے کوئی قوت نہیں ملے گی۔قوت اس وقت ملے گی جب ان جوشوں کا مقابلہ کرے اور گناہ کی طاقت ہوتے ہوئے پھر گناہ نہ کرے ورنہ اگر اس وقت وہ گناہ سے باز آتا ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے طاقتیں چھین لی ہیں تو اسے کیا ثواب ہوگا۔مثلاً آنکھوں میں بینائی نہ رہی تو اس وقت کہے کہ اب میں غیر عورت کو نہیں دیکھتا تو یہ کیا بزرگی ہوئی۔بزرگی تو اس وقت تھی کہ پیشتر اس کے کہ خدا اپنی دی ہوئی امانتیں واپس لیتا وہ ان کے بےمحل استعمال سے باز رہتا۔معرفت کے بغیر گناہ نہیں چھوٹ سکتا اصل بات یہ ہے کہ خدا کی معیت کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔خدا ہی کی معیت ہو تو تبدیلی ہوتی ہے اور پھر اس کی خواہشیں اَور اَور جگہ لگ جاتی ہیں اور خدا کی نافرمانی اسے ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے موت۔بالکل ایک معصوم بچہ کی طرح ہو جاتا ہے۔اس لئے جہاں تک ہوسکے کوشش کرے کہ دقیق در دقیق پرہیز گار ہو جاوے۔جب نماز میں کوئی خطرہ پیش آوے۔اس وقت سلسلہ دعا کا شروع کر دے یہ مشکلات اس وقت تک ہیں کہ جب تک نمونہ قدرتِ الٰہی کا نہیں دیکھتا۔کبھی دہریہ ہو جاتا ہے کبھی کچھ۔بار بار ٹھوکریں کھاتا ہے۔جب تک خدا کی معرفت نہ ہو گناہ نہیں چھوٹ سکتا۔دیکھو! جو لوگ جاہل ہیں ڈاکہ مارتے ہیں۔چوریاں کرتے ہیں۔لیکن جن کو علم ہے کہ اس سے ذلّت ہوگی۔خواری ہوگی وہ ایسے کام کرتے شرماتے ہیں کیونکہ ان کی عظمت میں فرق آتا ہے۔اس لئے ڈاکہ والوں کا یہ بھی علاج ہے کہ ان کی تعظیم کی جاوے اور ان کو بڑا آدمی بنا دیا جاوے