ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 31

تیسرے انہوں نے حج بتلایا اس کی اسے سمجھ نہ آئی۔اس کے بیٹے کااسلام کی طرف رجوع تھا مگر آخر پوتا بالکل مسلمان ہو گیا۔اسی طرح بخت نصر یہودیوں پر مسلّط ہوا تھا۔مگر خدا نے اسے کہیں ملعون نہیں کہا ہے بلکہ عِبَادًا لَّنَا(بنیٓ اسـرآءیل: ۶) ہی کہا ہے۔یہ خدا کا دستور ہے کہ جب ایک قوم فاسق فاجرہوتی ہے تو اس پر ایک اور قوم مسلّط کر دیتا ہے۔(قبل از عشاء) تعبیر الرئویا اس وقت ایک صاحب نے ایک خواب سنائی جس میں ایک مُردہ نے ان کو ان کی موت کی خبر دی تھی اور یہ خواب بیعت سے پیشتر آئی تھی۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ جو بیعت کرتا ہے اس پر بھی ایک موت ہی آتی ہے۔خوابوں میں موت سے مراد موت ہی نہیں ہوا کرتی اور بھی موت کے بہت سے معنے ہیں خدا کو کوئی نہیں پا سکتا جب تک اس کی اوّل زندگی پر موت نہ آوے۔دریا کی تعبیر پر فرمایا کہ جو معارف اور علم رکھتا ہو اسے دریا سے بھی تعبیر کیا کرتے ہیں اور ابابیل سے مراد وہ جماعت اور لوگ جو کہ اس سے فیوض حاصل کرتے ہیں۔پھر موت کے ذکر پر فرمایا کہ موت کے معنے رفعت درجات بھی لکھے ہیں اور صوفی کہتے ہیں کہ انسان نجات نہیں پاسکتا جب تک اس پر بہت موتیں نہ آویں حتی کہ وہ ایک زندگی کو ناقص محسوس کرکے پھر ایک اور نئی زندگی اختیار کرتا ہے۔پھر اس پر موت ہوتی ہے۔پھر اور ایک نئی زندگی اختیار کرتا ہے اور اسی طرح کئی موتیں اور کئی زندگیاں حاصل کرتا ہے۔خوابوں کی اقسام ایک نے سوال کیا کہ خواب کے کتنے اقسام ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ تین قسمیں خوابوں کی ہوتی ہیں۔ایک نفسانی اور ایک شیطانی اور ایک رحمانی۔نفسانی جیسے بلّی کو