ملفوظات (جلد 4) — Page 374
جلد چهارم روز افزوں ترقیات خدا کا وعدہ ہے کہ اگر ایک جائے گا تو وہ اس کے بدلے میں ایک جماعت دے گا فوق العادت اور اعجازی ترقی اور اے ۲۲ ۵۵ ۲۳ ۸۶ ۷۸ ۲۲۰ ۵۹ ۷۳ ۲۰ ۲۲۰ رجوع خلائق اشاعت و تصنیف جماعت کے قلیل ہونے کے باوجود کثرت الم ۹۴ ۱۹ ۲۹۹ ٣٠٠ ۳۴۵ ملفوظات حضرت مسیح موعود ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق ہونا چاہیے محبت اور اخلاص میں ترقی کا باعث تاریخی واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء کو بعد نماز جمعہ منارہ اسیح کا سنگ بنیا رکھنا بیت الدعا کی تعمیر بیت الدعا کی تعمیر کا مقصد ۱۹۰۳ء میں جماعت کی تعداد پونے دولاکھ تھی ۲۰۸ مخالفت سے کتابوں کی اشاعت مخالفت تبلیغ کا ذریعہ بن گئی ہے اخلاص صدق اور اخلاص کی اہمیت اور تقاضے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو برکات ملیں ان کے صدق اور اخلاص کی وجہ سے ملیں ۱۶۴ ۱۶۳ بیعت کنندگان کے اعداد و شمار مرتب رکھنے کی ہدایت مردم شماری کی رپورٹ پر سول ملٹری گزٹ کے غلط ریمارکس کی تردید کرنے کا ارشاد مخالفت مخالفین کے لیے ایک شریفانہ پیش کش ۱۶۹ اخلاق دیکھئے عنوان خُلق مخالف اخبارات کے بارہ میں حضور کا موقف ۱۸۹ احیاء موتی مستقبل احیاء موتی کی حقیقت اگر اللہ تعالیٰ کا یہ کاروبار ہے اور اسی کا ہے تو کسی انسان میں یہ طاقت نہیں کہ اس کو تباہ ادب کر سکے اور کوئی ہتھیا راس پر چل نہیں سکتا جنگ احزاب جیسے حالات کے بعد اللہ تعالیٰ زور آور حملوں سے سچائی کو ظاہر کر دے گا عنقریب وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی سچائی کو آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر دکھائے گا خدا تعالیٰ سے مانگنے کے واسطے ادب کا ہونا ۲۱۵ ،۲۱۴ ضروری ہے دعا کے آداب ۱۷۸ طالب کا ادب یہی ہے کہ وہ زیادہ سوال نہ کرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ۱۲۳ ادَّبَنِي رَبِّي فَأَحْسَنَ أَدَبِي