ملفوظات (جلد 4) — Page 28
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸ جلد چهارم ایک نے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں طاعون کیوں نہ عذاب کی اقسام پڑی ان کا بھی انکار ہوا تھا۔ فرمایا۔ یہ ضرور نہیں ہے کہ خدا ہر وقت ایک ہی رنگ میں عذاب دیوے۔ قرآن شریف میں عذاب کی کئی اقسام بیان کی ہیں ۔ جیسے قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمُ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَ يُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأسَ بَعْضٍ (الانعام : ۶۶) جنگ اور لڑائی وغیرہ کو بھی عذاب قرار دیا ہے۔ عذاب بہت اقسام کے ہوتے ہیں کیا خدا کے پاس عذاب کی ایک ہی قسم ہے؟ اور خدا کی عادت ہے کہ ہر نشان میں ایک پہلو اخفا کا رکھتا ہے ورنہ وہ چاہے تو چن چن کر بڑے بدمعاش ہلاک کر دے سب لوگ ایک ہی دن میں سیدھے ہو جاویں۔ مولوی محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ حضور اب الُومُ مَنْ يَلُومُ کا الہام ایک الہام کی تشریح خوب پورا ہوا۔ حضور کے جلائے ہوئے علاج پر لوگ کیا کیا باتیں بناتے تھے اور طریق ملامت ان لوگوں نے اختیار کیا ہوا تھا۔ خدا تعالیٰ نے ان کو اس ملامت کے بدلے میں کیسی ملامت کی ہے۔ جس ٹیکہ کو پیش کر کے ملامت کرتے تھے اب خود ہی اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں ۔ پھر حضرت اقدس نے ایک مقام پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں اسے ( طاعون کو کبھی بند نہ کروں گا جب تک تو بہ نہ کریں ۔ خدا تعالیٰ کا اصل مطلب تو طاعون سے افطار ہے ( یعنی ہلاک کرنے کا ) مگر پھر رحم آتا ہے تو روزہ رکھ لیتا ہے ( یعنی درمیان میں وقفہ دے دیتا ہے ) کہ لوگ اگر چاہیں تو تبدیلی کر لیں ۔ لوگوں سے اگر چہ ہمیں ہمدردی ہے مگر چونکہ لوگ خدا سے غافل ہیں اس لئے اس کو یاد کرانے کے واسطے تنبیہ کی ضرورت ہے جیسے ایک کی لحاف کے اندر کا استر بھی میلا اور پلید ہو اور باہر کا ابرہ بھی ویسے ہی خراب ہو۔ اسی طرح اب اندرونی باہر اور بیرونی دونوں حالتیں قابل اصلاح ہیں لوگوں کو یہ بات تعجب میں ڈال رہی ہے کہ کیا ایسا ہو گا کہ خدا اپنی ہستی کو منوا دے یہ ان کی غلطی ہے وہ اپنے وجود کوضرور منوا دے گا۔