ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 345

اٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعدا پربذریعہ دلائل نیّرہ اور براہین ساطع کے فتح کا گھر بنا۔ہم نے دیکھا کہ اب ان مسلمانوں کی حالت تو خود موردِ عذاب اور شامتِ اعمال سے قہرِ الٰہی کے نزول کی محرّک بنی ہوئی ہوئی ہے اور خدا کی نصرت اور اس کے فضل وکرم کی جا ذب مطلق نہیں رہی۔جب تک یہ خود نہ سنوریں تب تک خوشحا لی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔اعلاء کلمۃ اللہ کا ان کو فکر نہیں ہے خدا کے دین کے واسطے ذرا بھی سرگرمی نہیں۔اس لیے خدا کے آگے دست دعا پھیلانے کا قصد کرلیا ہے کہ وہ اس قوم کی اصلا ح کرے اور شیطان کو ہلاک کرے تاکہ خدا کا سچا نور دنیا پردوبارہ چمک جاوے اور راستی کی عظمت پھیلے۔بنی اسرائیل کی کتابوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ قوم فسق وفجور میں تباہ ہو جاتی اور اس کی توحیدوجلال کو بالکل بھول جاتی تھی تو ان کے انبیاء اسی طرح جنگلوں اور الگ مکانوں میں دست بدعا ہوتے تھے اور خدا کی رحمت کے تخت کو جنبشں دیا کرتے تھے۔دنیا کو علم نہیں ہے کہ آجکل عیسائی کیا کررہے ہیں مسلمانوں کی کس قدرذرّیت کو انہوں نے برباد کیا ہے۔کس قدرخاندان ان کے ہاتھوں سے نالاں ہیں گویا دنیا کا تختہ بالکل پلٹ گیا ہے۔اب خدا کی غیرت نے نہ چاہا کہ اس کی توحیداور جلال کی ہتک ہو اور اس کے رسول کی زیادہ بے عزّتی کی جاوے۔اس کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اپنے نورکو اب روشن کرے اور سچائی اور حق کا غلبہ ہو سو اس نے مجھے بھیجااور اب میرے دل میں تحریک پیدا کی کہ میں ایک حجرہ بیت الدعا صرف دعا کے واسطے مقررکروں اور بذریعہ دعا کے اس فساد پرغالب آؤںتا کہ اول آخر سے مطابق ہو جاوے اور جس طرح سے پہلے آدم کو دعا ہی کے ذریعےسے شیطان پر فتح نصیب ہوئی تھی اب آخری آدم کے مقابل پر آخری شیطان پر بھی بذریعہ دعا کے فتح ہو۔۱ ۱ البدر جلد۲ نمبر۱۱ مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ءصفحہ۸۴، ۸۵