ملفوظات (جلد 4) — Page 344
کا جواب خودبخود ہی ہو جاتا ہے اور اسی کے ادھورا رہنے سے سینکڑوں اعتراضات ہم پروارد ہوسکتے ہیں۔دیکھاگیا ہے کہ چالیس یا پچاس کتابیں لکھی ہیں مگران سے ابھی وہ کام نہیں نکلا جس کے لیے ہم آئے ہیں۔اصل میں ان لوگوں نے جس طرح قدم جمائے اور اپنا دام فریب پھیلا یا ہے وہ ایسا نہیں کہ کسی انسانی طاقت سے درہم برہم ہوسکے۔دانا آدمی جانتا ہے کہ اس قوم کا تختہ کس طرح پلٹا جا سکتا ہے۔یہ کام بجز خدائی ہاتھ کے انجام پذیر ہوتا نظر نہیں آتا۔اسی واسطے ہم نے ان ہتھیاروں یعنی قلم کو چھوڑکردعا کے واسطے یہ مکان (حجرہ) بنوایا ہے کیونکہ دعا کا میدان خدا نے بڑا وسیع رکھا ہے اور اس کی قبولیت کا بھی اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ فر مانا کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ (الانبیاء:۹۷) اس اَمر کے اظہار کے واسطے کافی ہے کہ یہ کل دنیا کی زمینی طاقتوں کو زیرپا کریں گے ورنہ اس کے سوااور کیا معنے ہیں؟ کیا یہ قومیں دیواروں اور ٹیلوں کو کودتی اور پھاندتی پھریں گی؟ نہیں بلکہ اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ دنیا کی کل ریاستوں اور سلطنتوں کو زیرپا کرلیں گی اور کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہ کرسکے گی۔فتح دعا کے ذریعہ ہو گی واقعات جس اَمر کی تفسیر کریں وہی تفسیر ٹھیک ہوا کرتی ہے اس آیت کے معنے خدا تعالیٰ نے واقعات سے بتا دیئے ہیں ان کے مقابلہ میں اگر کسی قسم کی سیفی قوت کی ضرورت ہوتی تو اب جیسے کہ بظاہر اسلامی دنیا کے امیدوں کے آخری دن ہیں چاہیے تھا کہ اہل اسلام کی سیفی طاقت بڑ ھی ہوئی ہوتی اور اسلامی سلطنتیں تمام دنیا پر غلبہ پاتیں اور کوئی ان کے مقابل پر ٹھہر نہ سکتا مگراب تو معاملہ اس کے برخلا ف نظر آتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور تمہید یا عنوان کے یہ زمانہ ہے کہ ان کی فتح اور ان کا غلبہ دنیوی ہتھیاروں سے نہیں ہوسکے گا۔بلکہ ان کے واسطے آسمانی طاقت کام کرے گی جس کا ذریعہ دعا ہے۔غرضیکہ ہم نے اس لیے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے ساٹھ یا پینسٹھ سال عمر سے گذرچکے ہیں۔موت کا وقت مقرر نہیں۔خدا جانے کس وقت آجاوے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی پڑا ہے ادھر قلم کی طاقت کمزورثابت ہوئی ہے۔رہی سیف اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشا نہیں ہے لہٰذاہم نے آسمان کی طرف ہاتھ