ملفوظات (جلد 4) — Page 339
لعنتی ہے وہ دل جو خیال کرتا ہے کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تعریفوں سے پھولتے تھے وہ ان کو مُردہ کیڑے کی طرح خیال کرتے تھے۔مدح وہی ہوتی ہے جوخدا آسمان سے کرے۔یہ لوگ محبت ذاتی میں غرق ہوتے ہیں ان کو دنیا کی مدح و ثنا کی پروانہیں ہوتی۔تو یہ مقام ایسا ہوتا ہے کہ خدا آسمان اور عرش سے ان کی تعریف اور مدح کرتا ہے۔توفیق سب اللہ تعالیٰ کو ہی ہے سنو! ہماری یہ باتیں اس واسطے نہیں کہ ہم کسی کے ایمان کو کچھ بڑھا سکتے ہیں یا کسی کے دل میں کچھ ڈال سکتے ہیں نہیں ہم کسی کے ایمان کو ایک جَو بھر بھی زیادہ نہیں کرسکتے۔۱ ہم صرف اس واسطے کہتے ہیں کہ تم اتنے جمع ہو شاید ہے کہ کسی کے دل کو کوئی بات پکڑلے اور اس کی اصلا ح ہو جاوے۔توفیق تو سب اللہ ہی کو ہے خدا تعالیٰ قادر ہے کہ کسی کے دل میں ایمان کی حقیقی جڑلگا دے اور پھر اسے اس کے ثمرات کھلاوے یا کسی کو اس کی بدی کی وجہ سے قہر کی آگ سے ہلاک کرے۔پس دعا ہی کرنی چاہیے تا اس کی توفیق شامل انسان ہو۔۲ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر) آریہ مذہب کی نسبت فرمایا کہ مذہب کی جڑخدا شناسی ہے اور اس سے کمتر درجہ یہ کہ باہمی تعلق پاکیزگی کے ہوں سویہ دونوں باتیں گری ہوئی ہیں۔۳ (دربارِ شام) اسباب پربھروسا نہ کریں طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ اصل میں لوگ اس کے حقیقی علاج کی طرف سے تو بالکل غافل۱ البدرسے۔’’سب توفیق خدا سے ہے جب تک وہ نہ توفیق دے ہم ایک جَو تک نہیں بڑ ھاسکتے۔‘‘ (البدرجلد۲نمبر۱۱مورخہ ۳؍اپریل ۱۹۰۳ءصفحہ۸۴) ۲ الحکم جلد۷ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۴تا ۷ ۳ البدرجلد۲نمبر۱۱مورخہ ۳؍اپریل ۱۹۰۳ءصفحہ۸۴