ملفوظات (جلد 4) — Page 336
ہیں۔سچ کہا ہے کسی نے ؎ خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است تومعتقد کہ زیستن از بہر خوردن است مگر اب کروڑوں مسلمان ہیں کہ انہوں نے عمدہ عمدہ کھانے کھانا، عمدہ عمدہ مکا نا ت بنانا، اعلیٰ درجہ کے عہدوں پر ہونا ہی اسلام سمجھ رکھا ہے مومن شخص کا کام ہے کہ پہلے اپنی زندگی کا مقصد اصلی معلوم کرے اور پھر اس کے مطابق کام کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ(الفرقان:۷۸) خدا کو تمہاری پروا ہی کیا ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرو اور اس سے دعائیں نہ مانگو، یہ آیت بھی اصل میں اس پہلی آیت کہ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذاریات:۵۷) ہی کی شرح ہے۔جب خدا کا ارادہ انسانی خلقت سے صرف عبادت ہے تو مومن کی شان نہیں کہ کسی دوسری چیز کو عین مقصود بنالے حقوق نفس تو جائز ہیں مگر نفس کی بے اعتدالیاں جائز نہیں۔حقوق نفس بھی اس لیے جائز ہیں کہ تاوہ درماندہ ہو کر رہ ہی نہ جاوے۔تم بھی ان چیزوں کواسی واسطے کام میں لاؤ۔ان سے کام اس واسطے لوکہ یہ تمہیں عبادت کے لائق بنائے رکھیں نہ اس لیے کہ وہی تمہارا مقصود اصلی ہوں۔قرآن شریف تو موت واردکرنا چاہتا ہے کھانا پینا صرف جسم کے سہارے کے واسطے ہوں۔انسانی بدن ہر وقت چونکہ معرض تحلیل میں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے جائز رکھا کہ اس کے قویٰ کی بحالی رکھنے اور قیام کے لیے یہ چیزیں استعمال کی جاویں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کے شارح ہیں آپ ایک موقع پربڑے گھبرائے ہوئے تھے حضرت عائشہؓ کو کہا کہ اے عائشہؓ ہمیں آرام پہنچاؤ۔۱ اور اسی واسطے ا للہ تعالیٰ نے آدم کے ساتھ حوا کو بھی بنادیا تا وہ اس کے واسطے ضرورت کے وقت سہارے کا موجب ہو۔غرض یہ باتیں ہیں جو ان پرعمل کرنا اور ان کو خوب یاد رکھنا ضروری ہے اور ان سب پر پوری ۱ البدرسے۔’’عورتوں کو پیدا کرنے میں سِر یہی ہے کہ خد اکی راہ میں نفس کی قربانی کے واسطے جو ایک کوفت پیدا ہوتی ہے یہ اس کا سہارا ہوجاویں۔‘‘ (البدرجلد۲نمبر۱۱مورخہ ۳؍اپریل ۱۹۰۳ءصفحہ۸۴)