ملفوظات (جلد 4) — Page 335
صرف خواہشات نفسانی اور لذائذ حیوانی ہی بنایا ہوا ہے۔مگر خدا نے انسان کے سلسلہ پیدائش کی علّت غائی صرف اپنی عبادت رکھی ہے وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذاریات:۵۷) پس حصر کردیا ہے کہ صرف صرف عبادت الٰہی مقصد ہونا چاہیے اور صرف اسی غرض کے لیے یہ سارا کارخانہ بنایا گیا ہے برخلا ف اس کے اَور ہی اَور ارادے اور اَور ہی اَور خواہشات ہیں۔بھلا سوچوتو سہی کہ ایک شخص ایک شخص کو بھیجتا ہے کہ میرے باغ کی حفاظت کر۔اس کی آب پاشی اور شاخ تراشی سے اسے عمدہ طور کا بنا اور عمدہ عمدہ پھول بیل بوٹے لگا کہ وہ ہرابھرا ہوجاوے۔شاداب اور سرسبز ہو جاوے مگر بجائے اس کے وہ شخص آتے ہی جتنے عمدہ عمدہ پھل پھول اس میں لگے ہوئے تھے ان کو کا ٹ کرضائع کر دے یا اپنے ذاتی مفاد کے لیے فروخت کرلے اور ناجائزدست اندازی سے باغ کو ویران کر دے تو بتاؤ کہ وہ مالک جب آوے گا تو اس سے کیا سلوک کرے گا؟ انسان کی پیدائش کا مقصد خدا نے تو اسے بھیجا تھا کہ عبادت کرے اور حق اللہ اور حق العباد کو بجا لا وے مگر یہ آتے ہی بیویوں میں مشغول، بچوں میں محو اور ا پنے لذائذ کا بندہ بن گیا اور اس اصل مقصد کو بالکل بھول ہی گیا بتاؤ اس کا خدا کے سامنے کیا جواب ہوگا؟ دنیا کے یہ سا ما ن اور یہ بیوی بچے اور کھانے پینے تو اللہ تعالیٰ نے صرف بطور بھاڑہ کے بنائے تھے جس طرح ایک یکہ با ن چند کو س تک ٹٹو سے کام لے کر جب سمجھتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے اسے کچھ نہاری اور پانی وغیرہ دیتا ہے اور کچھ مالش کرتا ہے تا اس کے تکان کا کچھ علاج ہو جاوے اور آگے چلنے کے قابل ہو اور درماندہ ہو کر کہیں آدھ میں ہی نہ رہ جاوے۔اس سہارے کے لیے اسے نہاری دیتا ہے۔سویہ دنیوی آرام اور عیش اور بیوی بچے اور کھانے کی خوراکیں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھاڑے مقرر کئے ہیں کہ تا وہ تھک کر اور درماندہ ہوکر بھوک سے پیاس سے مَر نہ جاوے اور اس کے قویٰ کے تحلیل ہونے کی تلافی مآفات ہوتی جاوے۔پس یہ چیزیں اس حدتک جائزہیں کہ انسان کو اس کی عباد ت اور حق اللہ اور حق العباد کے پورا کرنے میں مدد دیں۔ورنہ اس حدسے آگے نکل کر وہ حیوانوں کی طرح صرف پیٹ کا بندہ اور شکم کا عا بدبنا کر مشرک بناتی ہیں اور وہ اسلام کے خلاف