ملفوظات (جلد 4) — Page 26
معزز ہوگا۔یہ دن خدا تعالیٰ کے روزہ کے ہیں۔ان کو غنیمت سمجھواس سے پہلے کہ وہ اپنا روزہ کھولے تم اس سے صلح کر لو اور پاک تبدیلی کر لو۔جنوری کا مہینہ باقی ہے فروری میں پھر وہی سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ایسی بلائوں کا باعث صادق کی تکذیب ہوتی ہے اس لئے اور کوئی علاج کارگر نہیں ہوسکتا۔بعض صحابہ بھی اس مرض سے مَرے ہیں لیکن وہ شہید ہوئے۔جیسے لڑائیاں جو دشمنوں کی ہلاکت کا موجب تھیں ان میں مَرنے والے صحابہ بھی شہید ہوئے تھے جو نیک آدمی مَر جاتا ہے اس کو بشارتِ شہادت ملتی ہے جو بد آدمی مَرتا ہے اس کا انجام جہنم ہے۔جو شخص نیکیوں میں ترقی کرتا اور خدا سے پناہ مانگتا رہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کو بچا لیتا ہے۔دیکھو! ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم وبیش واﷲ اعلم پیغمبر گذرے ہیں۔مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی طاعون سے بھی ہلاک ہوا تھا؟ہرگز نہیں۔یہ بلابھی مامور ہوتی ہے اور خدا کے حکم سے نازل ہوتی ہے۔اس کی مجال نہیں کہ بِلا حکم کوئی کام کرے۔(یہاں حضرت اقدس نے ہاتھی والی رئویا سنائی جو کئی مرتبہ شائع ہوئی) پھر فرمایا کہ اگرچہ آج کل کسی قدر امن ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ وہ وقت خطرناک زور کا قریب ہے اس لئے ہماری جماعت کو ڈرنا چاہیے۔اگر کسی میں تقویٰ ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔تو وہ بچایا جائے گا۔اس سلسلہ کو خدا نے تقویٰ ہی کے لئے قائم کیا ہے کیونکہ تقویٰ کا میدان بالکل خالی ہے۔پس جو متقی بنیں گے ان کو معجزہ کے طور پر بچایا جائے گا۔عرب صاحب نے پوچھا کہ جو لوگ حضور کو بُرا نہیں کہتے اور آپ کی دعوت کو نہیں سنا۔وہ طاعون سے محفوظ رہ سکتے ہیں یا نہیں۔فرمایا۔میری دعوت کو نہیں سنا تو خدا کی دعوت تو سنی ہے کہ تقویٰ اختیار کریں۔پس جو تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہمارے ساتھ ہی ہے خواہ اس نے ہماری دعوت سنی ہو یا نہ سنی ہو کیونکہ یہی غرض ہے ہماری بعثت کی۔اس وقت تقویٰ عنقا یا کبریت کی طرح ہو گیا ہے کسی کام میں خلوص نہیں رہا بلکہ ملونی ملی ہوئی ہے۔خدا چاہتا ہے کہ اس ملونی کو جلا کر خلوص پیدا کرو۔اس وقت ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الرّوم: ۴۲) کا نمونہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یورپ اور دیگر ممالک کی