ملفوظات (جلد 4) — Page 330
سے ہمیں نہیں معلوم کیا فائدہ اور یہ کیوں کیا جاتا ہے؟ میرے خیال میں یہ جو ہما رے ملک میں رسم جاری ہے کہ اس پر کچھ قرآن شریف وغیرہ پڑھاکرتے ہیں یہ طریق تو شرک ہے اور اس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے نہیں۔غرباء ومساکین کو بے شک کھانا کھلاؤ۔نصیحت بعد ازبیعت چند احباب نے بیعت کی تھی اس پر ان کو چند کلمات بطور نصیحت فرمائے۔پانچوں نمازیں عمدہ طرح سے پڑھا کرو۔روزہ صدق سے رکھو اور اگر صاحبِ توفیق ہو تو زکوۃ، حج وغیرہ اعمال میں بھی کمر بستہ رہو۔اور ہر قسم کے گناہ سے اور شرک اور بدعت سے بیزار رہو۔اصل میں گناہ کی شناخت کے اصول صرف دوہی ہیں۔اوّل۔حق اللہ کی بجا آوری میں کمی یا کوتا ہی۔دوم۔حق العباد کا خیال نہ کر نا۔اصل اصول عبادت بھی یہی ہیں کہ ان دونو حقوں کی محا فظت کما حقہ کی جاوے اور گناہ بھی انہیں میں کوتاہی کرنے کا نام ہے اپنے عہد پر قائم رہو اور جوالفاظ اس وقت تم نے میرے ہاتھ پر بطور اقرار زبان سے نکالے ہیں ان پر مَرتے دم تک قائم رہو۔انسان بعض اوقات دھوکا کھاتا ہے وہ جانتا ہے کہ میں نے اپنے لیے توبہ کا درخت بولیا ہے اب اس کے پھل کی امیدرکھتا ہے یا ایمان میں نے حاصل کر لیا ہے اس کے اب نتائج مترتّب ہونے کا منتظر ہوتا ہے مگر اصل میں وہ خدا کے نزدیک نہ تائب اور نہ سچا مومن، کچھ بھی نہیں ہوتا کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ کی پسند یدگی اور منظوری کی حد تک نہ پہنچی ہوئی ہو وہ چیزاس کی نظر میں ردی اور حقیر ہوتی ہے۔اس کی کوئی قدر و قیمت خدا کے نزدیک نہیں ہوتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان جب کسی چیز کے خریدنے کا ارادہ کرتا ہے جب تک کوئی چیز اس کی پسندیدگی میں نہ آوے تب تک اس کی نظر میں ایک ردی محض اور بے قیمت ہوتی ہے۔تو جب انسان کا یہ حال ہے تو خدا تو قدّوس اور پاک اور بے لوث ہستی ہے۔وہ ایسی ردّی چیز کو اپنی جناب میں کب منظور کرنے لگا؟ دیکھو! یہ دن ابتلا کے دن ہیں وبائیں ہیں قحط ہے غرض اس وقت خدا کا غضب زمین پر نازل ہو