ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 329

اور طرح طرح کی بد اعمالیوں میں مبتلا تھے۔ان کو حیوانیت سے انسانیت میں اسلام ہی لایا۔ہرطرف اس کی مخا لفت ہوئی لوگوں نے دشمنی میں کوئی دقیقہ فر وگذاشت نہ کیا۔پھر بھی وہ تمام کام پورے ہو کر رہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے اور کوئی فردبشر بھی اس کا با ل نہ بگاڑسکا۔حتی کہ ندا آگئی اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا(المائدۃ: ۴)۱ ۲۳؍مارچ ۱۹۰۳ء (قبل از عشاء) ہندوؤں سے گفتگو کا طریق جیسے کہ بعض لوگوں کا دستور ہے کہ جب ہندومسلمانوں میں کوئی گفتگو ہو تو گاؤ خوری وغیرہ باتوں پر بحث ہوا کرتی ہے اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ اصل اشیاء میں حلت ہے اب دنیا میں کروڑہا اشیاء ہیں کوئی کچھ کھاتا ہے اور کوئی کچھ۔اس لیے ایسی باتوں میں پڑنا مناسب نہیں ہوا کرتا۔چاہیے کہ ایسے مباحثات میں ہمیشہ اسلام کی خوبیاں اور صداقت بیان کی جائے اور ظاہر کیاجاوے کہ کن کن نیک اعمال کی تعلیم اسلام نے دی ہے کن مہلکات سے بچایا ہے۔گاؤخوری کے مسائل وغیرہ بیان کرنے سے کیا فائدہ؟ جو اسلام کو پسندکرے گا۔وہ خود گاؤ خوری کو بھی پسند کرے گا جس بات کا فساد اس کے نفع سے بڑھ کر ہو اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔۲ ختم اور فا تحہ خوانی ایک بزرگ نے عر ض کی کہ حضور میں نے اپنی ملا زمت سے پہلے یہ منت مانی تھی کہ جب میں ملا زم ہو جاؤں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حسا ب سے نکال کر اس کا کھانا پکوا کر حضرت پیران پیرکا ختم دلاؤں گا۔اس کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا کہ خیر ات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جائز ہے اور جسے چاہے انسان دے مگر اس فا تحہ خوانی ۱ البدر جلد۲ نمبر۱۱ مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۲ ۲ البدر جلد۲ نمبر۱۱ مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۲،۸۳