ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 328

توبہ کرو بس اب یہ وقت ہے توبہ کرو۔اگر عذاب آگیا تو پھر توبہ کا دروازہ بھی بندہو گیا۔توبہ میں بہت کچھ ہے۔دیکھو! جب کوئی بادشاہ کے کسی اَمر کے متعلق سمجھاوے تم اس سے رک جاؤ تمہارا بھلا ہوگا تو اگر وہ شخص رک جاوے تو بہتر ورنہ پھر اس کا عذاب کیسا سخت ہوتا ہے اس طرح پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں سے خدا تعالیٰ لوگوں کو سمجھوتیاں دیتا ہے کہ بازآجاؤ موقع ہے ورنہ پچھتاؤ گے مگر جیسا وہ نہیں سمجھتے اور اس کی نافرمانی سے نہیں رکتے تو پھر اس کا عذاب ایسا ہوتا ہے لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا (الشمس:۱۶)۔صرف بیعت کافی نہیں تم لوگوں نے جو میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اسی پر بھروسا نہ کرلینا صرف اتنی ہی بات کافی نہیں۔زبانی اقرارسے کچھ نہیں بنتا جب تک عملی طور سے اس اقرار کی تصدیق نہ کرکے دکھلائی جاوے۔یوں زبانی تو بہت سے خوشامدی لوگ بھی اقرار کر لیاکرتے ہیں مگر صادق وہی ہے جو عملی رنگ سے اس اقرار کا ثبوت دیتا ہے۔خدا کی نظر انسان کے دل پر پڑتی ہے۔پس اب سے اقرار سچا کرلواور دل کو اس اقرار میں زبان کے ساتھ شریک کرلوکہ جب تک قبر میں جاویں ہر قسم کے گناہ سے شرک وغیرہ سے بچیں گے۔غرض حق اللہ اور حق العباد میں کوئی کمی یا سستی نہیں کریں گے۔اسی طرح سے خدا تم کو ہرطرح کے عذابوں سے بچاوے گا اور تمہاری نصرت ہرمیدا ن میں کرے گا۔ظلم کو ترک کرو، خیانت، حق تلفی اپنا شیوہ نہ بناؤ اور سب سے بڑا گناہ جو غفلت ہے اس سے اپنے آپ کو بچاؤ۔۱ ۲۲؍ مارچ ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) اسلا م مذہب کے مقابلے پر گفتگوفر ما تے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اسلام وہ زندہ مذہب ہے جس نے اپنے اقبال کے ساتھ تمام مذاہب کو اپنے پیروں میں لے لیا ہوا ہے۔اسلام ایسے ملک سے شروع ہواجہاں لوگ درندوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے ۱ الحکم جلد ۷نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۹، ۱۰