ملفوظات (جلد 4) — Page 314
سُود اور سُود در سُود ایک صاحب نے بیان کیا کہ سیداحمد خان صاحب نے لکھا ہے اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً (اٰل عـمران:۱۳۱) کی ممانعت ہے۔فرمایا کہ یہ بات غلط ہے کہ سُود در سُود کی ممانعت کی گئی ہے اور سودجائزرکھا ہے۔شریعت کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے۔یہ فقر ہ اسی قسم کےہوتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ گناہ درگناہ مت کرتے جاؤ اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گناہ ضرور کرو۔اس قسم کا روپیہ جو کہ گورنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حالت میں سود ہوگا جب کہ لینے والا اسی خواہش سے روپیہ دیتا ہے کہ مجھ کو سود ملے ورنہ گورنمنٹ جو اپنی طرف سے احساناً دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔رشوت کے روپیہ سے بنائی گئی جائیداد ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص تائب ہو تو اس کے پاس جواول جا ئیداد رشوت وغیرہ سے بنائی ہو اس کا کیا حکم ہے۔فرمایا۔شریعت کا حکم ہے کہ توبہ کرے تو جس جس کا وہ حق ہے وہ اسے پہنچایا جاوے۔۱ رشوت اورہدیہ میں ہمیشہ تمیز چاہیے۔رشوت وہ مال ہے کہ جب کسی کی حق تلفی کے واسطے دیا یا لیا جاوے ورنہ اگر کسی نے ہمارا ایک کام محنت سے کر دیا ہے اور حق تلفی بھی کسی کی نہیں ہوئی تو اس کو جو دیا جاوے گا۔وہ اس کی محنت کا معاوضہ ہے۔انشورنس یا بیمہ انشورنس۲ اور بیمہ پر سوال کیا گیا۔فرمایا کہ سود اور قما ربازی کو الگ کرکے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں الحکم سے۔’’اور اگر پتا نہ لگے تو پھر اسے صدقہ و خیرات کردے۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱ مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۶) ۲ الحکم میں اس سوال سے پہلے ایک اور سوال اور اس کا جواب یوں درج ہے۔سوال۔رہن کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضرت اقدس۔’’ہمارے نزدیک رہن جب کہ نفع و نقصان کا ذمہ دار ہوجاتا ہے اس سے فائدہ اُٹھانا منع نہیں۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱ مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۶)