ملفوظات (جلد 4) — Page 300
حجرہ دعا بعد نمازجمعہ مورخہ ۱۳ ؍مارچ ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس نے تجویز فرمایا کہ چونکہ بیت الفکرمیں اکثر مستورات وغیرہ اور بچے بھی آجاتے ہیں اور دعا کا موقع کم ملتا ہے اس لیے ایک ایسا حجرہ اس کے ساتھ تعمیر کیا جاوے۔جس میں صرف ایک آدمی کے نشست کی گنجائش ہو اور چارپائی بھی نہ بچھ سکے تاکہ اس میں کوئی اور نہ آسکے۔اس طرح سے مجھے دعا کے لیے عمدہ وقت اور موقع مل سکے گا۔۱ ۲ (مجلس قبل از عشاء) قبل از عشاء مجلس میں صرف یہ ذکر ہوا کہ ایک صاحب نے حضرت اقدس سے ایمان مجمل اور مفصل کی تفسیر دریافت کی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ ایک سیدھے طور پر ایمان لانے کی بات ہے زیادہ دقیق بیان بے موقع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کو قرآن میں بیان کیا ہے اس طرح مان لینا ایمان باللہ ہے اور جیسے خدا نے کتابوں کا ذکر قرآن شریف میں کیا ہے اسی طرح ان کو مان لینا ایمان بالکتب ہے اور ایمان بالرّسل یہ ہے کہ جن کا ذکر قرآن شریف میں آگیا ان کو بھی مانا اور جو لَمْ نَقْصُصْ میں آئے اور خدا نے ان کا ذکر نہیں کیا ان پر بھی ایمان چاہیے اور قدر خیر اور شر پر اور مُردوں کے جی اٹھنے پر ایمان لانا چاہیے اس کی تفصیل خدا کے سپرد ہے اس کی زیادہ تفصیل سمجھنے کے واسطے قرآن شریف کو تدبّر سے دیکھنا کافی ہے اس کو پڑھو اور ایمان لاؤ۔۳ ۱ نوٹ از ایڈیٹر البدر۔چنانچہ اسی وقت مغربی جانب جو در یچہ ہے اس کے ایک حجرے کے لیے عمارت شروع ہو گئی ہے۔۲البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۷۲ ۳البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۲۰؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۸