ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 299

واسطے لہریں ہوتی ہیں باد نسیم چلتی ہے۔ویسے رحمت کی نسیم بھی اپنے وقت پر چلا کرتی ہے۔انسان کو ہمیشہ طیار رہنا چاہیے۔۱ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء نظر آئے گی دنیا کو تیرے اسلام کی رفعت مسیحا کا بنے گا جب یہاںمنار۔یا اللہ ! منار ۃ ا لمسیح کی بنیادی اینٹ بعد نماز جمعہ حضرت حجۃ اللہ المسیح الموعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حضور ہمارے مکرم دوست حکیم فضل الٰہی صاحب لاہوری، مرزا خدا بخش صاحب، شیخ مولا بخش صاحب، قاضی ضیاء الدین صاحب وغیرہ احباب نے عرض کی کہ حضور منارۃ المسیح کی بنیادی اینٹ حضور کے دست مبارک سے رکھی جاوے تو بہت ہی مناسب ہے۔فرمایا کہ ہمیں تو ابھی تک معلوم بھی نہیں کہ آج اس کی بنیاد رکھی جاوے گی۔اب آپ ایک اینٹ لے آئیں میں اس پرد عا کروں گا اور پھر جہاںمیں کہوں وہاں آپ جا کر رکھ دیں۔چنانچہ حکیم فضل الٰہی صاحب اینٹ لے آئے۔اعلیٰ حضرت نے اس کو ران مبارک پر رکھ لیا اور بڑی دیر تک آپ نے لمبی دعا کی۔معلوم نہیں کہ آپ نے کیسی کیسی اور کس کس جوش سے دعائیں اسلام کی عظمت و جلال کے اظہار اور اس کی روشنی کے کل اقطاع واقطارعالم میں پھیل جانے کی کی ہوں گی۔وہ وقت قبولیت کا وقت معلوم ہوتا تھا۔جمعہ کا مبارک دن اور حضرت مسیح مو عود منارۃ المسیح کی بنیادی اینٹ رکھنے سے پہلے اس کے لیے دلی جوش کے ساتھ دعائیں مانگ رہے ہیں۔یعنی دعا کے بعد آپ نے اس اینٹ پر دم کیا اور حکیم فضل الٰہی صاحب کو دی کہ آپ اس کومنارۃ المسیح کے مغربی حصہ میں رکھ دیں۔غرض اس عظیم الشان مینار کی بنیاد خدا کے برگزیدہ ماموراور مسیح ومہدی علیہ السلام کے ہاتھ سے ۱۳ ؍مارچ ۱۹۰۳ء کو رکھ دی گئی۔۲ ۱ البدا جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۸ ۲ الحکم جلد۷ نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۴