ملفوظات (جلد 4) — Page 298
دیکھو! ابوالحسن خرقانی، بایزید بسطامی یا شیخ عبد القادر جیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہم اجمعین وغیرہ یہ سب خدا کے مقر ب تھے اورانہوں نے بھی شریعت ہی کی پابندی سے یہ درجہ پایا تھا نہ کہ کوئی نئی شریعت بناکر۔جیسا کہ آج کل کے گدی نشین کرتے ہیں۔یہی نماز تھی اور یہی روزے تھے مگر انہوں نے اس کی حقیقت اور اصل غرض کو سمجھا ہوا تھا۔بات یہ تھی کہ انہوں نے نیکی کی مگر سنوار کر۔انہوں نے اعمال کو بیگار کے طور پر پورا نہ کیا تھا بلکہ صدق اور وفا کے رنگ میں ادا کرتے تھے سوخدا نے ان کے صدق وسداد کو ضائع نہ کیا۔خدا کسی کا احسان اپنے اوپر نہیںرکھتا وہ ایک پیسہ کے بدلے میں جب تک ہزار نہ دے لے تب تک نہیں چھوڑتا۔پس جب کسی انسان میں وہ برکات اور نشانات نہیں ہیں۔۱ اور وہ خدا کی محبت اور تقوے کادعویٰ کرتا ہے تو جھوٹھا ہے مگر خدا پر الزام نہیں لگا تا بلکہ اپنا گندظاہر کرتا ہے۔خدا کی جناب میں بخل ہرگز نہیں۔پس کوشش کرو کہ اس کی رضا کے موافق عمل درآمد کرسکو۔اگر مصائب کے وقت میں تم مومن ہو اور خدا سے صلح کرنے والے اور اس کی محبت میں آگے قدم بڑھانے والے ہوتو۔تو وہ رحمت ہے تمہارے واسطے کیونکہ خدا قادر ہے کہ آگ کو گلزار کرے اور اگر تم فاسق ہو تو ڈرو کہ وہ آگ ہے جو بھسم کرنے والی ہے اور قہر اور غضب ہے جو نیست ونابود کرنے والا ہے۔فقط۲ ۱۱؍مارچ ۱۹۰۳ء (قبل ازعشاء) ایک نے خواب بیان کی کہ کان میں اس نے کچھ بات سنی ہے اس کی تعبیر میں فرمایا کہ دہنا کان دین ہوتا ہے اور با یاں دنیا۔کان میں بات کا ہونا بشارت پر محمول کیا جاتا ہے۔پھر ایک ذکر پر فرمایا کہ جو خدا کی طرف رجوع ہوتا ہے ایک دن کامیاب ہو ہی جاتا ہے ہاں تھکے نہ۔کیونکہ خدا کے ۱ البدر میں ہے۔’’جب انسان نیکی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور اس کو اس کے پھل عطا نہیں ہوتے تو وہ جھوٹا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۷) ۲ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۹ تا ۱۳