ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 296

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۶ جلد چهارم ہوتے ہیں جن کا اظہار اس علیحدگی اور سسرال میں جا کر شوہر سے معاشرت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے جو طرفین کے لیے موجب برکت اور رحمت ہوتا ہے۔ یہی حال اہل اللہ کا ہے۔ ان لوگوں میں بعض خلق ایسے پوشیدہ ہوتے ہیں کہ جب تک ان پر تکالیف اور شدائد نہ آویں ان کا اظہار ناممکن ہوتا ہے۔ دیکھو ! اب ہم لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بیان کرنے میں بڑے فخر اور جرات سے کام لیتے ہیں یہ بھی تو صرف اسی وجہ سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دونوں زمانے آچکے ہوئے ہیں ورنہ ہم یہ فضیلت کس طرح بیان کرتے۔ دکھ کے زمانہ کو بری نظر سے نہ دیکھو یہ خدا سے لذت کو اور اس کے قرب کو اپنی طرف کھینچتا ہے اسی لذت کے حاصل کرنے کے واسطے جو خدا کے مقبولوں کو ملا کرتی ہے دنیوی اور سفلی کل لذات کو طلاق دینی پڑا کرتی ہے۔ خدا کا مقرب بننے کے واسطے ضروری ہے کہ دکھ سہتے جاویں اور شکر کیا جاوے اور نئے دن ایک نئی موت اپنے اوپر لینی اور پڑتی ہے جب انسان دنیوی ہوا و ہوس اور نفس کی طرف سے بکلی موت اپنے اوپر وارد کر لیتا ہے تب اسے وہ حیات ملتی ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی ۔ پھر اس کے بعد مرنا کبھی نہیں ہوتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن شریف قرآن کا نزول ٹانز ول بحالت غم ہوا ہے غم کی حالت میں نازل ہوا ہے۔ تم بھی اسے غم ہی کی حالت میں پڑھا کرو۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بہت بڑا حصہ غم والم میں گذرا ہے۔ تو بہ کے درخت بولے لو تا تم اس کے پھل کھاؤ۔ توبہ کا تو بہ کا درخت اور اس کا پھل درخت بھی بالکل ایک باغ کے درخت کی مانند۔ کی ۔ مانند ہے جو جو ل البدر میں ہے۔ اگر توبہ کے ثمرات چاہتے ہو تو عمل کے ساتھ توبہ کی تکمیل کرو۔ دیکھو! جب مالی بوٹا لگاتا ہے پھر ہو اس کو پانی دیتا ہے اور اس سے اس کی تکمیل کرتا ہے۔ اسی طرح ایمان ایک بوٹا ہے اور اس کی آب پاشی عمل سے ہوتی ہے اس لیے ایمان کی تکمیل کے لیے عمل کی از حد ضرورت ہے۔ اگر ایمان کے ساتھ عمل نہیں ہونگے تو بوٹے خشک ہو جائیں گے۔ اور وہ خائب و خاسر رہ جائیں گے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۷)