ملفوظات (جلد 4) — Page 291
کے نزدیک ان کے بڑے مدارج ہیں مگر آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں رکھ کر اگر ان کو اسی کسوٹی پرپرکھا جاوے تو ان کے اخلاق بہت گرے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔انہوں نے اقتداراور ثروت کا زمانہ نہ پایا اور نہ اس کے متعلق ان کے اخلاق کا اظہار ہوا۔ہمیں تو قرآن شریف مجبور کرتا ہے ورنہ ہم اگر ان کے حا لات کے لحاظ سے اور ان کی عام سوانح کی وجہ سے دیکھیں تو وہ تو ایک کامل انسان کے مرتبہ سے بھی گرے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کجا یہ کہ عیسائی ان کو خدائے قدوس کا مرتبہ دے بیٹھے ہیں۔بھلا ان کا صبر، ان کی داد و دہش، ان کی جو دوسخا کا کون سا نمونہ دنیا میں باقی رہا ہے۔ان کی شجا عت کے اظہار کا کون سا موقع تھا۔کس جنگ میں انہوں نے اس اَمر کا ثبوت دیا۔۱ ان کی بعثت کا زمانہ صرف تین سال تھا اور وہ بھی مصائب کا زما نہ۔مقابلہ پرصرف ایک اپنی ہی قوم تھی جو معدودے چند سے زیادہ ہرگز نہ تھی۔ان کا پیش کردہ اَمر بھی ان کے لیے کوئی نرالا نہ تھا جس کی مثال پہلے نہ پائی جاتی ہو۔قوم پہلے ہی تو حید پسند تھی ان کے خلا ق اور ان کے عقائدکا بہت سا حصہ نسبتاًاچھا تھا۔ان میں خدا تر س ، گوشہ نشین وغیرہ بھی تھے غرض ان کا کام نہایت سہل اور آسان تھا۔ادھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھوکہ آپ کی نبوت کے زمانہ میں سے ۱۳ سال مصائب اور شدائدکے تھے اور دس سال قوت وثروت اور حکومت کے۔مقابل میں کئی قومیں۔اول تو اپنی ہی قوم تھی۔یہودی تھے عیسائی تھے۔بُت پرست قوموں کا گروہ تھا۔مجوس تھے وغیرہ جن کا کام کیا ہے؟ بُت پرستی۔جو ان کا حقیقی خدا کے اعتقادسے پختہ اعتقاد اور مسلک تھاوہ کوئی کام کرتے ہی نہ تھے جو ان بتوں کی عظمت کے خلاف ہو۔شراب خوری کی یہ نوبت کہ دن میں پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ شراب۔بلکہ پانی کے بجائے شراب ہی سے کام لیا جاتا تھا۔حرام کو تو شیرِ مادرجا نتے تھے اور قتل وغیرہ تو ان کے نزدیک ایک گاجر مولی کی طرح تھا۔غرض کل دنیا کی اقوام کا نچوڑاور گندے البدر میں لکھا ہے۔’’مثلاً حضرت عیسیٰ کی طرف دیکھ لو۔نُصرت کا زمانہ نہیںدیکھا کوئی لڑائی نہیں ہوئی تا کہ ہم اُن کی شجاعت کا اندازہ لگائیں۔کسی فتح کا وقت نہیں آیا جس سے ہم دیکھ سکتے کہ وہ کس طرح اپنے دشمنوں کو معاف کرسکتے تھے اور اُن میں عفو کی قوت کس قدر تھی۔اُن کو غنیمتیں نہیں ملیں جس سے ہم دیکھ سکتے کہ ان میں قوتِ سخاوت کس قدر تھی۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۶۶،۶۷)