ملفوظات (جلد 4) — Page 282
تبدیل ہو کر وہ اور شَے بن جاوے تو اس وقت وہ ابدال ہوتا ہے۔یہ بات انسان کے اندر دردِ دل سے پیدا ہوتی ہے اور جب تک خدا خود نہ درد دے تب تک درد پیدا نہیں ہوتا۔اس درد کا نمونہ ایک ماں میں ہوتا ہے اگر اس کا بچہ بیمار ہو تو اس کا جگر پارہ پارہ ہوتا ہے یہ ایک بڑی بزرگ شَے ہے جو کہ زراور زور سے حاصل نہیں ہوتی صرف موہبت ہے اور صرف درد بھی کوئی شَے نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔خدا کی محبت کا زبانی دعویٰ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔رؤیا اور خواب بھی کیا شَے ہیں۔ہندو بھی اس میں شریک ہیں حالانکہ ان کے عمل کیسے ناپاک ہوتے ہیں۔میں تو ان باتوں کو ایک جَو کے بدلے بھی نہیں خریدتا۔بلعم کیسا صاحبِ الہام تھا مگر اسے دردِ دل نہ تھا۔تکبر تھا اس لئے اسے موسیٰ پر جرأت بددعا کی ہوئی اس نے خیال کیا کہ موسیٰ میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں حالانکہ موسیٰ کو دردِ دل تھا۔آخر خدا نے اسے کتّے سے مشابہت دی۔پس دردِ دل کو تلاش کرو۔ماں کو بچے سے عاشق کو معشوق سے جو محبت ہے وہ دردِ دل ہے درد ِدل وہ کام کرتا ہے کہ دوسرے اس سے حیران ہوجاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک عورت ایک مَرد پر عاشق تھی۔دونوں کی عمر ۳۰ یا ۳۵ سا ل کی تھی پھر وہ عورت اس کے دروازے کے آگے گری رہتی لوگ اسے پتھر مار مار کر لہو لہان کرتے اور گھسیٹ گھسیٹ کر دور پھینک جاتے مگر وہ پھر وہیں آپڑتی۔میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ اصل میں محبت حقیقی کا نمونہ ہے۔خدا تعالیٰ بعض دفعہ سالہا سال تک بیزار ہوکر متمثّل ہوتا ہے مگر بیزار نظر آتا ہے۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں بہت سخت تکلیف اٹھائی آخر خدا سے عرض کی کہ اگر مجھ پر عتاب ہے تو اس وقت تک میں صبر کروں گا کہ تو راضی ہو جاوے۔اصل میں خدا تعالیٰ کی بیزاری نہ تھی وہ بھی ایک پیرایہ میں محبت تھی۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جو امتحان ہوتے ہیں اس میں ایک بیزاری بھی ہے بعض لوگ جو اس کے اہل نہیں ہوتے وہ دھوکا کھاتے ہیں۔اکثر دہریہ ہوجاتے ہیں سعید وہ ہے جو ازل سے سعید ہے گویا اس نے خدا کی گود میں پرورش پائی ہے۔۱ ۱ البدر جلد ۲ نمبر۹ مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۵