ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 268

ہے۔جب تک وہ نہ کھولے دل میں اثر نہیں ہوتا۔ابو جہل بھی تو چودہ برس تک باتیں سنتاہی رہا۔یہی ہماری جماعت ہے اس کی کون سی عقل زیادہ ہے کہ انہوں نے حقیقت کو سمجھ لیا اور بعضوں نے نہ سمجھا ایسے ہی دماغ اعضا وغیرہ باقی سب مخالفوں کے ہیں مگر وہ اس حقیقت کو نہیں پہنچے۔ان کے دلوں کو قفل لگے ہیں۔دوکانداری کا جواب مختلف اعتراضات کے جواب پر فرمایا کہ اسے دوکانداری کہتے ہیں۔ہے تو دوکان مگر خدا کی، اگر انسان کی ہوتی تو دوالہ نکل جاتا، ٹوٹ جاتی، مگر خدا کی ہے جو محفوظ ہے۔ہمارے گروہ کی خدا نے خود مدد کی ہے کہ اتنی جلدی ترقی کر دی۔یہ مسجدوں کے مُلّاں وغیرہ جب دیکھیں گے کہ اب ان کی تعداد بہت ہے خود ہی ہاں میں ہاں ملا دیں گے۔(قبل از عشاء) ایک خانساماں کی استقامت بٹالہ میں ایک خانسامہ جو مشنری لیڈی کے ہاں ملازم تھا۔حضرت صاحب کا خادم تھا۔مشنری لیڈی نے اسے اس تعصّب کے باعث برخواست کر دیا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ اگر مکھن کھاتے دانت جاتے ہیں تو جاویں۔مشنری لیڈی نے اسے کہاتھا کہ تم اتنی دیر ہمارے پاس رہے اور اثر نہ ہوا۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ اثر تو ہوا کہ اس نے مقابلہ کرکے دیکھ لیا کہ حق اِدھر ہے۔فقط۱ ۴ ؍مارچ ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر) جو خد اکے واسطے کھوتا ہے اسے ہزار چند دیا جاتا ہے فرمایا کہ جو شخص خدا کی طرف قدم ۱ البدر جلد ۲نمبر۸ مورخہ۱۳ ؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵۹،۶۰