ملفوظات (جلد 4) — Page 19
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹ جلد چهارم پھر کیا کوئی ایسا مفتری ہو سکتا ہے جو برابر پچیس برس سے خدا پر افترا کر رہا ہو اور نہ تھکا ہو اور خدا کو بھی اس کے لئے غیرت نہ آوے۔ بلکہ اس کی تائید میں نشانات ظاہر کرتا رہے۔ یہ عجیب بات ہے ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ صادقوں ہی کی نصرت اور تائید کرتا ہے۔ دیکھو! یہ جو پیشگوئی ہے کہ میری عمر ۸۰ برس کے قریب ہوگی کیا کوئی مفتری اس قسم کی پیشگوئی کر سکتا ہے اور خصوصاً اس پر تیس برس گزر بھی گئے ہوں اور ایسا ہی اس وقت جب کوئی نہ جانتا تھا اور نہ یہاں آتا تھا یہ کہا يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ اور يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کیا یہ مفتری کرسکتا ہے کہ ایسا کہے اور پھر خدا بھی ایسے مفتری کی پروا نہ کرے بلکہ اس کی پیشگوئی پوری کرنے کو دور دراز سے لوگ بھی اس کے پاس آتے رہیں اور ہر قسم کے تحائف اور نقد بھی آنے لگیں۔ اگر یہ بات ہو کہ مفتری کے ساتھ بھی ایسے معاملات ہوتے ہیں تو پھر نبوت سے ہی امان اٹھ جاوے۔ یہی نشانات ہیں جو ہماری جماعت کی محبت اور اخلاص میں ترقی کا باعث ہورہے ہیں۔ مفتری اور صادق کو تو اس کے منہ ہی سے دیکھ کر پہچان سکتے ہیں۔ فرمایا ۔ سچائی کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ صادق کی محبت سعید الفطرت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ احمق کو یہ راہ نہیں ملتی کہ نور کا حصہ لے۔ وہ ہر بات میں بدگمانی ہی سے کام لیتا ہے۔ فرمایا۔ ہم کو تکلف اور تصنع کی حاجت نہیں۔ خواہ کوئی ہماری وضع سے راضی ہو یا نا خوش ۔ ہمارا اپنا کوئی کام نہیں ہے۔ خدا کا اپنا کام ہے اور وہ خود کر رہا ہے۔ فرمایا ۔ جب انسان خدا کو چھوڑتا ہے تو پھر وہ مکائد پر بھروسا کرتا ہے۔ فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو محجوب ہونے کی حالت میں نہ چھوڑے گا۔ وہ اپنی سچائی پر بصیرت سب پر اتمام حجت کردے گا۔ یاد رکھوسو اور ارضی آدمیوں میں فرق ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے آتے ہیں ۔ وہ خودان کی عزت کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی سچائی کو روشن کر کے دکھاتا ہے اور جو اس کی طرف سے نہیں آتے اور مفتری ہوتے ہیں وہ آخر ذلیل ہو کر