ملفوظات (جلد 4) — Page 256
تھے اب ایسا تفرقہ پیدا ہوا ہے کہ وہ اندرونی کشش جو ایک دوسرے میں تھی باقی نہیں رہی ہے بلکہ تعصب اور دشمنی بڑھ گئی ہے پس جب کہ کوئی حصہ انس اور کشش کا ہی باقی نہ ہو اور ہار جیت مقصو د ہو تو پھر اظہار حق کس طرح ہوسکتا ہے۔اظہارِ حق کے لئے ضروری امور اظہار حق کے واسطے یہ ضروری اَمر ہے کہ تعصب سے اندر خالی ہو اور بغض اور عناد نہ ہو۔ست است کے نرنے کے لیے بحث کا تو نام بھی درمیا ن میں نہیں آنا چاہیے بلکہ اس کو چاہیے کہ بحث کو چھوڑ دے۔میں یہ بھی مانتا ہوں اور یہی میرا مذہب ہے کہ ایک اور غلطی میں لوگ پڑے ہوئے ہیں کسی مذہب پر حملہ کرتے وقت وہ اتنا غور نہیں کرتے کہ جو حملہ ہم کرتے ہیں اس مذہب کی کتاب میں بھی ہے یا نہیں؟ مسلّمہ کتب کو چھوڑدیتے ہیں اور کسی شخص کی ذاتی رائے کو لے کر اس کو مذہب کی خبر بنادیتے ہیں۔ہم بہت سی باتوں میں آریہ مذہب کے خلاف ہیں اور ہم ان کو صحیح تسلیم نہیں کرتے لیکن ہم ان کو ویدپر نہیں لگاتے ہم کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ اس میں کیا ہے ہاں پنڈت دیا نند پر ضرور لگاتے ہیں کیونکہ انہوں نے تسلیم کر لیا ہے ہم تو اس عقیدہ کے خلاف کہتے ہیں جو شائع کر دیا گیا ہے کہ یہ آریہ سماج کا عقیدہ ہے اسی طرح پر آریوں کو اگر کوئی اعتراض کرنا ہو تو چاہیے کہ وہ قرآن شریف پر کرےیا اس عقیدہ پر جو ہم نے مان لیا ہو اور اس کو شائع کر دیا ہو یہ مناسب نہیں کہ جس بات کو ہم مانتے ہی نہیں خواہ نخواہ ہمارے عقیدہ کی طرف اس کو منسوب کر دیا جاوے۔مباحثہ اصول پر ہونا چاہیے چونکہ بہت سے فرقے ہو گئے ہیں اس لیے جس نے ایک اصول مان لیا ہے اس پر اعتراض کرنا چاہیے اس لئے مباحثہ کے وقت کتاب کا نام لے۔تفسیروں اور بھاشوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر اختلاف ہے۔اگر اس اصل کو مد نظر رکھا جاوے تو سا معین فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔جب تک کتاب کو کسی نے سمجھا اور پڑھا ہی نہیں اس پر وہ اعتراض کرنے کا حق کس طرح رکھ سکتا ہے۔مذہب کے معاملہ میں یہ ضروری بات ہے کہ ما نی ہوئی اصل پر بحث کریں۔اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ کل کتابیں پڑھی جاویں اس کے لیے